خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 393

خطبات طاہر جلد 16 393 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء بھی ہیں جو جوش میں اتنا بڑھ گئے ہیں کہ پاکستانیوں کو جو پیدائشی احمدی تھے پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور مالی قربانی میں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔ توفیق کا جہاں تک تعلق ہے دو طرح کے فیض ہیں۔ مالی قربانی کی توفیق بخشنا یہ سب سے بڑا فیض ہے اور مالی قربانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنا یہ نسبتاً ادنی صلى الله درجے کا فیض ہے اور اس فرق کو میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے حوالے سے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ جب تک ان باریک باتوں کو آپ نہیں سمجھیں گے آپ کو یہ بھی پتا نہیں چلے گا کہ فیض کیسے کرنا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی غریب کو پیسے دے دئے یہی فیض ہے۔ یہ فیض نہیں۔ اس سے بڑھ کر فیض یہ ہے کہ جو مانگنے والا ہاتھ ہے اس کو عطا کرنے والا ہاتھ بنائیں کیونکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اليد العليا الله : خير من اليد السفلى اليد العلیا جو اوپر کا ہاتھ ہے وہ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ آپ نچلے ہاتھ والے کو فیض کیوں دے رہے ہیں اوپر والے ہاتھ کا فیض کیوں نہیں پہلے دیتے اور یہ فیض غربت میں بھی عطا ہو جاتا ہے۔ عظیم الشان فیض ہے، جس کی کوئی حد نہیں ہے، اگر اس طرح جاری کریں جس طرح صلى الله آنحضرت ﷺ نے اپنے غلاموں میں جاری فرمایا۔ وہ اصحاب الصفہ جو مسجد کے تھڑوں پر پل رہے تھے غربت سے بعض دفعہ ایک ایک، دو دو، تین تین دن کی روٹی نصیب نہیں ہوتی تھی، جب آنحضرت می نے اليد العلیا کے فیض کی باتیں کیں تو جنگلوں میں نکل گئے ، کلہاڑیاں لے کر لکڑیاں کاٹیں، ان کو بیچ کر جو ہاتھ آیا وہ غریبوں میں تقسیم کیا۔ آنحضرت ﷺ کی شان دیکھو فقیروں کو بادشاہ بنا دیا، غریبوں کو عزت نفس بخشی اور ان کو بتایا کہ تم احسان کرنے والے ہو غربت میں بھی احسان کر سکتے ہو۔ تو سب سے پہلے یہ احسان کریں غریب قوموں کو عزت نفس بخشیں اور یہ حال ساری دنیا میں برابر چل رہا ہے۔ ہندوستان میں جو تھروں کے علاقے ہیں وہاں کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احمدی ہو رہے ہیں۔ میں ان کو لکھتا ہوں کہ ان کی مسجد کی ضرورتیں پوری کرنے میں آپ مدد کریں بے شک کریں اور ان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے سکیمیں بنائیں مگر ان کے امیر کو بھی ، ان کے غریب کو بھی خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ خرچ کرنے والا ضرور بنا دیں۔ یہ آپ کا سب سے بڑا احسان ہے جو ان پر ہوگا جو آئندہ نسلیں سنبھالیں گی۔ ورنہ اگر آپ نے صرف ان کی غربت دور کرنے کے لئے پیسے تقسیم کئے یا آٹا تقسیم کیا تو آج ان کی ایک غربت دور ہو رہی ہوگی۔ ایک اور غربت