خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 392 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 392

خطبات طاہر جلد 16 392 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء اس وقت میں اس کو استعمال کریں تو بقیہ وقت میں آپ کی رفتار پہلے سے بہت بڑھ جائے گی اور رفتار کو اب اس طرح بڑھانا ہے کہ تربیت ساتھ ساتھ اسی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہو اور اس کے لئے یہ ترکیب ہے کہ ہر قوم کے آدمیوں کو فوری طور پر معلم بنانے کی طرف توجہ کریں۔ساتھ ساتھ وہ اپنی قوم میں پیغام رسانی کریں اور جانے سے پہلے آپ سے یہ عہد کر جائیں کہ اب ہم نے اپنی تعداد کو دگنا ، تگنا، چوگنا بڑھانا ضرور ہے اور یہ بھی تربیت کا حصہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جوں جوں ترقی ہوگی ، ترقی اپنی ترقی کے سامان خود ہی کرتی چلی جائے گی اور شرط وہی ہے کہ بجز بڑھ رہا ہو، دعاؤں پر انحصار بڑھ رہا ہو۔جہاں جہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابیاں عطا فرمائی ہیں وہاں کے مربی بھی ، وہاں کے کارکن بھی دن بدن زیادہ خدا کے حضور جھکتے چلے جائیں اور یا درکھیں کہ ان دنیاوی لوگوں میں ہماری کوئی پناہ نہیں ہے، یہ ہماری پناہ لینے کے لئے آئے ہیں۔ان کو پناہ دیں اور اسی پناہ کے نتیجے میں اللہ آپ کو پناہ دے گا۔ان کو پناہ دیں حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے اخلاق کی پناہ ، ان کو پناہ دیں قرآن کریم کی تعلیم کی پناہ اور یہ پناہیں ان کو عطا کر دیں تو پھر دیکھیں ساری دنیا کی پناہ کا یہ موجب بن جائیں گے، اپنی قوم کو بھی پناہیں دیں گے اور باقی دنیا کو بھی پناہ دیں گے۔پس یہ دوسری بات ہے جس کو آپ پہلے باندھ لیں اور محنت کے ساتھ اس کام میں آگے بڑھیں۔تیسری چیز جس کا میں ذکر عمومی طور پر پہلے کرتا رہا ہوں آج بھی میں نے اپنی مجلس میں کیا تھا وہ ہے فیض کا پہنچانا۔یہ جو تو میں آپ میں داخل ہو رہی ہیں ساتھ ساتھ ان کو فیض پہنچانا بھی ضروری ہے اور فیض پہنچانے کے کئی طریق ہیں۔کچھ طریق تو ایسے ہیں جہاں بعض جگہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں بعض قو میں غربت اور مصائب کا شکار ہو چکی ہیں وہاں مالی طور پر بھی ہمیں جو توفیق ہے ضرور ان کے لئے خرچ کرنا ہو گا لیکن ایسی قو میں کم ہیں۔بہت ایسی ہیں جو اس قسم کی مالی امداد کی ضرورت مند نہیں ہیں مگر اقتصادی حالت کو بہتر کرنے کے لئے جماعت کو ضرور مدد کرنی ہوگی۔چنانچہ جن قوموں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں بہت سے ایسے ہیں جن کو جرمنی کی خوشحالی کی وجہ سے جو غریب ملکوں سے آکر جرمنی میں بسے تھے اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی ہے کہ اب وہ چندے دے رہے ہیں اور پورے جوش سے نہیں تو کسی حد تک مالی نظام کا حصہ بن گئے ہیں لیکن بعض ان میں سے ایسے