خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد 16 32 32 خطبہ جمعہ 10 /جنوری 1997ء ذکر فرمایا۔پھر فرمایا کرامات الصادقین میں بھی وہ 1893 ء ہی میں شائع ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ تو ایک یوم عید دیکھے گا اور وہ دن عید کے دن سے بالکل ملا ہوا ہوگا۔یہ ایک اور علامت لیکھرام کی ہلاکت کی اس کے دن کی تعیین کی ہوئی۔پھر 15 / مارچ 1897 ء کو آپ نے ایک اشتہار شائع فرمایا جب کہ یہ سارے واقعات ہو چکے تھے مگر اس کا ذکر یہاں غلطی سے اس موقع پر آگیا ہے میں بعد میں بات کروں گا۔چونکہ بہت سا وقت گزر چکا ہے اس لئے میں صرف مختصر آیہ آپ کو بتاتا ہوں کہ لیکھر ام بھی مقابل پر مسلسل بدزبانی کرتا رہا اور آپ کی پیشگوئیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے جوابی پیش گوئی کرتارہا۔1886ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صرف لیکھرام کے مقابل پر اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر اس کی ہلاکت کی خبر نہیں دی بلکہ اپنے مبارک اور مصلح بیٹے کی پیدائش کی خوش خبری بھی دی اور یہ مقابلہ اس طرح شروع ہو کر ایک معین صورت اختیار کر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق پیشگوئیاں کیں کہ وہ بڑی شہرت اور برکت والا ہوگا ، غیر معمولی ذہین ہوگا ، زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور وہ وہ کام کرے گا قرآن کی خدمت میں۔وہ ساری تفاصیل لیکھر ام نے پیش نظر رکھتے ہوئے جوا با خدا تعالیٰ کی طرف جھوٹے الہامات منسوب کرتے ہوئے ایک پیشگوئی شائع کی اور یہ جو جوابی پیش گوئی ہے اس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیش گوئی کے ساتھ جو مقابلہ ہے یہ چونکہ تفصیل سے میں پہلے اپنی جو کتاب ہے ”سوانح فضل عمر‘ اس میں لکھ چکا ہوں، اس لئے میں اس میں سے چند باتیں آپ کی یاد دہانی کے لئے صرف پڑھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ یہ تھے خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔1886ء میں آغاز ہوا ہے لیکھر ام سے مقابلے کا اور پیش گوئی بھی 1886ء میں ہوئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کو کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے وہ لکھتا ہے۔رحمت کا نہیں زحمت کا کہا ہوگا، آپ تو ہر بات کو الٹی سمجھتے ہیں اور “ اور ” میں امتیاز نہیں رکھتے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا : مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔لیکھرام کہتا ہے ” خدا اس سفر کو نہایت منحوس بتلاتا ہے، آپ نے شاید 99 وو