خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 33

خطبات طاہر جلد 16 33 خطبہ جمعہ 10 /جنوری 1997ء لدھیانہ میں کوئی خبیث کنجر کی سرائے میں جیل خانہ کے متصل فروکش ہونے کو مبارک سمجھا۔‘ اس قسم کے بدتمیز اور بدخلق اور بے حیاء دشمن تھے۔مجھے تو حیرت ہوتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صبر پر کہ کس طرح ان لوگوں کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور ہر بات کا جواب دیا ہے اکیلے ہو کر۔آج تو دفاتر کے دفاتر دنیا میں ہزار ہا احمدی دن رات میری تائید میں خدمت کرنے پر مامور ہوئے بیٹھے ہیں اور میں حیرت سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلیٰ مقام کو دیکھتا ہوں کہ کس طرح تن تنہا آپ نے تمام مشکلات کو عبور کرتے ہوئے اسلام کی خدمت کے سفر کو انجام تک پہنچایا ہے۔نا قابل یقین شخص تھا۔انسان کا تصور اس بات کی اہلیت نہیں رکھتا کہ اس بلندی تک دیکھ سکے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے قدموں سے حاصل کیا ہے۔پس اندازہ کر و حضرت محمد مصطفی اے کے مقام اور مرتبے کا کہ وہ کتنا بلند تر تھا جس کی خاک سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خمیر گوندھا گیا ہے اس کا اپنا وجود کتنا عظیم الشان ہوگا۔تو میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جدو جہد اور قربانیاں اور مسلسل ان تھک محنت اور پھر ایسے ایسے بدتمیزوں سے برابر کا مقابلہ کرتے چلے جانا۔ورنہ آج کل یہ لوگ بولتے ہیں تو میرا دل نہیں چاہتا کہ ان کو منہ لگاؤں، ان کی بات کا ، ان کا نام لینا بھی طبیعت پر دوبھر ہے، کراہت محسوس ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دل پر بڑے جبر کئے ہیں۔سو قدرت اور رحمت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔وہ کہتا ہے ”خدا کہتا ہے میں نے قہر کا نشان دیا ہے۔رحمت کا نشان تو صرف کنجر کی سرائے تھی اور بس یہ بے حیاء، ذلیل، رذیل انسان، جس کی زبان کا سب کچھ ماحصل یہ ہے جو وہ باتیں کر رہا ہے، فکر لے رہا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کے غلام سے۔آپ نے فرمایا اے مظفر تجھ پر سلام یہ مجھے الہام ہوا ہے۔وہ کہتا ہے ”اے منکر و مکار تجھ پر آلام “ یہ اس کے مصنوعی خدا نے اس کو یہ الہام کیا جواباً۔خدا نے کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں وہ موت کے پنجے سے نجات پاویں۔کہتا ہے ”خدا کہتا ہے کہ میں جلد مصنوعی کو فی النار کروں گا اور قبر سے نکال کر جہنم میں ڈالوں گا۔پھر مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے