خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 365 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 365

خطبات طاہر جلد 16 365 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء اختیار کرنا ہے اس کے سوا اس کے کوئی معنی نہیں۔پس سائنسی نقطہ نگاہ سے، فلسفیانہ نقطہ نگاہ سے یہ بات آپ کو سادہ لفظوں میں میں نے سمجھائی ہے اور اس کے سوا کوئی بات ممکن ہے ہی نہیں۔صفات باری تعالیٰ کا نام زندگی ہے اس کے سوا کوئی اور نہیں اور آنحضرت جب فرماتے ہیں کہ میں تم سب کو زندگی کی طرف بلا رہا ہوں تو مراد ہے آپ نے لازماً اللہ تعالیٰ کی وہ تمام صفات اختیار کیں جو بندوں کے لئے اختیار کرناممکن تھا اور جب خدا کی صفات لے کر دنیا میں نکلیں تو قوموں کا کیا حق رہ جاتا ہے کہ وہ آواز اٹھا ئیں کہ ہم فلاں قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔رنگ ونسل کا کیا حق رہ جاتا ہے کہ وہ آواز اٹھائیں کہ اے صفات باری تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہم تو ایک اور قوم اور ایک اور نسل سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ صفات باری تعالیٰ ان سب میں برابر پھیلی پڑی ہے۔کوئی بھی قوم نہیں ہے جو اپنے ایسے وجود کا اعلان کر سکے جو صفات سے الگ وجود ہے۔پس جو وجود اللہ کی صفات سے متصف ہو کر ان قوموں کو اکٹھا کرنے کا اعلان کرتا ہے دنیا کی کسی قوم کے پاس کوئی عذر، کوئی بہانہ نہیں ہے کہ وہ اس کا انکار کر سکے۔پس آج اگر قومیتیوں کو مٹانے والی کوئی طاقت ہے تو وہ تو حید ہی کی طاقت ہے اس کے سوا اور کوئی طاقت نہیں ہے۔پس ہم جو ساری دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لئے اٹھے ہیں ہمارے پاس توحید کے سوا اور کوئی رنگ ہی نہیں اور کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے جس توحید کی طرف بلایا ہے وہ صفات باری تعالیٰ کا ایک دوسرا نام ہے۔ان صفات کا نام ہے جو اس کی ساری مخلوق میں اور تمام انسانوں میں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ان صفات کے نام پر آپ دنیا کو اکٹھا کر سکتے ہیں۔ان صفات سے ہٹ کر آپ دنیا کو اکٹھا نہیں کر سکتے اور ان صفات کو اپنانا ہی درحقیقت ایک طاقت کا حصول ہے، آپ کے اندر اس کے سوا کوئی طاقت نہیں۔صلى الله پس آنحضرت مہ کو عرب قوم سے اٹھانا اور ساری دنیا پر منطقی طور پر یہ ثابت کر دینا کہ اس کی آواز پر لبیک کہنا تمہارا فرض ہی نہیں تمہارے اپنے وجود کے لئے ضروری ہے، تمہاری بقاء کے لئے ضروری ہے کیونکہ اس خدا کی طرف سے آیا ہے هُوَ يُخي وَيُمِيتُ جو زندہ بھی کرتا ہے اور مارنا بھی جانتا ہے۔اگر رسول اللہ ﷺ سے تم نے خدا کی صفات جو زندگی کی طرف بلانے والی ہیں وہ حاصل نہ کیں تو تم مرجاؤ گے اور اس کے سوا تمہارے لئے اور کوئی چارہ نہیں ہے۔یہ اعلان کرنے والا صلى