خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 364 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 364

خطبات طاہر جلد 16 364 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء یہ اصول ہے کہ جو چیز کسی تخلیق کے عمل میں داخل کی جاتی ہے دوسری طرف سے جتنی داخل کی گئی تھی اس سے زیادہ نہیں نکل سکتی، یہ ناممکن ہے۔پنجابی میں بھی محاورہ ہے جتا گڑ پاؤ گے انا ای مٹھا ہوئے گا اب یہ ہے سادہ سی بات جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہوگا لیکن یہ اسی سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کا میں نے آپ سے بیان کیا ہے جو کچھ آپ ڈالیں گے ناممکن ہے کہ اس سے زیادہ نکل آئے۔پس اگر موت کے متعلق سائنس دان یقین رکھتے ہیں کہ موت واقع ہو جاتی ہے تو پھر اس سے زندگی پیدا کرنا زندہ کا کام ہے۔جب تک وہ زندہ وجود کسی موت کو زندگی کی طرف متحرک نہ کرے اس وقت تک موت از خود زندہ نہیں ہو سکتی اس لئے تخلیق میں زندگی کا ڈالا جانا ضروری تھا اور تخلیق میں زندگی زندہ وجود کی طرف سے ڈالی جا سکتی ہے مردہ وجود کی طرف سے نہیں ڈالی جاسکتی۔اب اس نو جوان کو میں یہ داد دوں گا کہ باوجود اس کے کہ شروع میں بڑے زور سے مخالفانہ انداز میں اٹھا تھا یہ بات سنتے ہی وہیں بیٹھ گیا۔اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے بات سمجھ آگئی ہے۔ایک قانون ہے جس کے متعلق قطعیت کے ساتھ تمام دنیا میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کبھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔جتنا ڈالو گے اس سے زیادہ نکل نہیں سکتا۔کچھ بیچ میں ڈوب جائے گا، کم نکلے گا، زیادہ سے زیادہ اتنا ہی نکلے گا مگر اس سے زیادہ نہیں نکل سکتا جو ڈالا جائے گا۔پس کا ئنات اگر مردہ ہو چکی تھی اور Singularity کا یہی مطلب ہے کہ تمام صفات سے عاری ہو گئی تھی تو پھر اس میں زندگی جب تک کوئی زندہ وجود نہ ڈالے اس وقت تک وہ زندہ ہو نہیں سکتی یہ ناممکن ہے۔پس آنحضرت ﷺ کو جس اعلان عام کا ارشاد فرمایا گیا ہے اس میں یہی مرکزی نقطہ ہے هُوَ يُخي وَيُمِيتُ وہ ایک ہی ذات ہے جو زندہ کرتی ہے اس لئے کہ وہ زندہ ہے ویمیت اور زندہ وجود جب اپنی زندگی کی علامتیں واپس لیتا ہے تو جو باقی چیز ہے وہ مردہ کہلاتی ہے۔تو وہ ذات زندہ بھی کرتی ہے اور مردہ بھی کرتی ہے۔فرمایا کہ تم دنیا کو اعلان کر کے بتاؤ کہ اس کی طرف میں تمہیں بلانے آیا ہوں اور مجھ میں وہ صفات موجود ہیں جو زندگی کی صفات ہیں۔یہ جو اعلان ہے یہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی بیان ہوا ہے جہاں آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا گیا کہ جب کوئی ایمان لے آئے تو ان کو بلاؤ تا کہ تم ان کو زندہ کرو۔پس زندہ کرنا کیا ہے؟ یہ مضمون ہے جو میں آپ کو سکھانا چاہتا ہوں ، آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔زندہ کرنا صفات باری تعالیٰ کا