خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 366 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 366

خطبات طاہر جلد 16 366 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء رسول جب دنیا کو بلاتا ہے تو رسالت کا عالمی ہونا ایک طبعی نتیجہ بن جاتا ہے۔جب رسالت عالمی ہو جائے جو صفات باری تعالیٰ کے اظہار سے ہوتی ہے تو پھر یہ فرق کیسے رہ جائے گا کہ فلاں یورپین ہے، فلاں افریقن ہے، فلاں چینی ہے، فلاں عرب ہے، فلاں ہندوستانی ہے یہ سارے فرق از خود توحید سے مٹ جاتے ہیں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پس جس کو بھی آپ نے جماعت احمد یہ اسلامیہ میں داخل کرنا ہے اس کو صفات کے حوالے سے داخل کرنا ہو گا، اسے نیشنیلٹی کے حوالے سے داخل نہیں کیا جاسکتا۔جہاں بھی آپ نے نیشنیلٹی کے حوالے سے داخل کیا وہاں اچانک تو حید ٹوٹے گی اور تمام وجود منتشر ہو کر بکھر جائیں گے۔پھر ہر رنگ، نسل، قوم کا اپنا اپنا ہی حق رہ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اپنے آپ کو الگ سمجھے۔پس آنحضرت ﷺ کے عالمی ہونے کا توحید باری تعالیٰ سے ایک گہرا اٹوٹ تعلق ہے اور کل عالم کا آپ صلى الله کی طرف رجوع کرنا اس کے سوا ممکن نہیں کہ محمد رسول اللہ یہ میں وہ صفات ہوں جو انسانوں کے رنگوں اور قوموں میں فرق نہ کرتی ہوں اور وہ صفات خدا کے سوا اور کوئی صفات نہیں ہیں۔پس آنحضرت میاہ کے متعلق جب خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ لا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ (النور: 36) یہ ایک ایسا نور ہے جو نہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا ہے تو سوائے خدا کے نور کے اس کا کوئی اور معنی بنتا ہی نہیں۔ایک خدا کی ذات ہے جو نہ مشرق کی ہے نہ مغرب کی ہے سب کی برابر ہے۔پس آپ کو ہر ایک کے لئے برابر بنا ہوگا اور اس کے بغیر نہ نبوت کی وحدت ہوسکتی ہے نہ خلافت کی وحدت ہو سکتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ایک خلیفہ کو مختلف قومیں کیوں قبول کریں۔ان کا سر پھر گیا ہے کہ ایک پاکستانی کو خلیفہ مان لیں؟ یا اگر خلافت کہیں خدا اور بھیجنا چاہے تو اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔پہلی بات ان کو یہ سوچنی ہوگی کہ کیا ایک عرب کو مانا تھا کہ نہیں مانا تھا؟ کیا عرب کی حیثیت سے مانا تھا؟ ہرگز نہیں کیونکہ یہ ساری قو میں وہ ہیں جو عربوں کو مختلف پہلوؤں سے حقیر جانتی ہیں۔آپس میں لڑ رہے ہیں، فساد برپا ہے، قومی مقاصد کا کوئی خیال نہیں ہے یہ ساری باتیں ان کو پھاڑ رہی ہیں اور دنیا میں بظاہر طاقتور ہونے کے باوجود بالکل حقیر اور کمزور دکھا رہی ہیں تو آنحضرت ﷺ کو کسی امریکن کسی جرمن کسی انگریز کسی یہودی کسی چینی جاپانی نے عرب کے رسول کے طور پر نہیں پکڑا۔سوائے اللہ کی نمائندگی کے آپ کے وجود میں دوسری قوموں کو اور کچھ دکھائی نہیں دیا۔یہی وجہ ہے کہ