خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد 16 353 خطبہ جمعہ 16 رمئی 1997 ء ہوں گے۔کوئی خدا سے دور ہٹ رہا ہے تو اللہ کی خاطر بے قرار ہوں گے۔پس ان کی بے قراری میں بھی ایک طمانیت پائی جاتی ہے جو اللہ کے حوالے سے ہوتی ہے۔یہ وہ باریک باتیں ہیں جن کو آپ سمجھیں یا اس وقت سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر یاد رکھیں کہ نفس مطمئنہ ایک ایسی حالت کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات سے محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔صفات باری تعالیٰ سے محبت کے بغیر نفس مطمئنہ نصیب نہیں ہوسکتا۔اگر یہ محبت آپ کو مل جائے تو پھر وہ دن آپ کی نجات کا دن ہے۔لازم ہے کہ اس کے بعد پھر کبھی اس پہلو سے آپ کو بے اطمینانی نصیب نہ ہو۔بے اطمینانی ہو تو اس محبت کے حوالے سے ہو۔یہ بظاہر متضاد مضمون ہے لیکن فی الحقیقت متضاد نہیں ہے۔ایک شخص کو اگر کسی سے پیار ہو اور کوئی اس پیارے سے دشمنی کرتا ہو تو آپ کو اس پیار پر تو اطمینان ہے مگر اس سے دشمنی کرنے والے سے آپ کو جو دوری پیدا ہوگی اور تکلیف پیدا ہوگی کہ جس سے مجھے پیار ہے دیکھو یہ اس کو برا بھلا کہ رہا ہے اگر اس سے پیار ہو تو یہ تکلیف ہونا لازمی ہے۔پس نفس مطمئنہ کے لئے بھی کچھ بے قراریاں ہوا کرتی ہیں۔یہ خیال دل سے نکال دیں کہ نفس مطمئنہ کو کوئی بے قراری نصیب نہیں ہوتی مگر نفس مطمئنہ کی تمام بے قراریاں اللہ کے حوالے سے ہوتی ہیں۔اللہ سے پیار ہے جس کو خدا سے پیار ہوگا آپ کو اس سے پیار بڑھتا چلا جائے گا۔جس کو خدا سے پیار نہیں ہو گا اس کے لئے آپ کے دل میں بے قراری ہوگی کہ جس سے میں نے چین حاصل کیا یہ کیوں اس سے چین حاصل نہیں کرتا۔یہ کیوں اس کو تکلیف پہنچاتا ہے جس سے مجھے پیار ہے۔پس مطمئنہ کی بے قراریاں بھی اپنی جگہ ہیں مگر وہ بے قراریاں جو نفس مطمئنہ سے ہٹ کر ہوتی ہیں وہ تو جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔وہ تو انسانی زندگی کو ہمیشہ جہنم میں تبدیل کرتی چلی جاتی ہیں۔مگر وہ بے قراریاں جو نفس مطمئنہ کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہیں ، جو آنحضرت مہ کو سب سے زیادہ تھیں اگر یہ نہ ہوتا تو خدا آپ کو کبھی یہ نہ کہتا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4)اے میرے محبوب بندے ان جیسے لوگوں کے لئے اپنے دل کو ہلاک نہ کر کس لئے دل ہلاک ہور ہا تھا اسی لئے کہ وہ اللہ سے دور تھے۔جس سے آپ کو پیار ہے اس سے ان کو پیار نہیں تھا اور جس سے آپ کو پیار ہے وہ اتنا پیارا ہے کہ اس کے سوا کسی اور پیار کی قیمت ہی کوئی نہیں رہتی۔صلى الله یہ کیفیت تھی جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دل کی کیفیت تھی یعنی آپ کی بے قراریاں