خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 354 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 354

خطبات طاہر جلد 16 354 خطبہ جمعہ 16 رمئی 1997ء اللہ کے حوالے سے تھیں، اللہ کے پیار اور اس کی محبت کے حوالے سے تھیں اور ان بے قراریوں پر سب سے زیادہ کس کی نظر تھی۔اللہ کی نظر تھی جو آسمان سے ہرلحہ آپ کے دل پر نظر ڈالتے ہوئے فرماتا هَا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اے میرے پیارے کیا تو اپنے دل کو ان جیسے لوگوں کیلئے ہلاک کر دے گا کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے، اللہ سے دور ہیں۔پس یہ فس مطمئنہ ہے جس کا سارا سکون اللہ کی یا داس کے پیار اور اس کی محبت میں ہو، جس کی ساری بے قراریاں اللہ کی یاد اور اس کے پیار اور اس کی محبت کی بناء پر ہوں۔اگر آپ اپنے نفس میں یہ بات دیکھتے ہیں تو پھر آپ کو نفس مطمئنہ نصیب ہے اور اس کی آخری یقین دہانی خدا تعالیٰ اس وقت کرواتا ہے جب ایسا انسان جان آفریں کے سپرد اپنی جان کرتا ہے اور ہر شخص کو مرنے سے پہلے خدا تعالیٰ یہ یقین دلا دیتا ہے کہ اے میرے بندے تجھے نفس مطمئنہ نصیب تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں جب وہ جان دے رہا ہو اس کو آسمان سے آوازیں آتی ہیں۔یاتیتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَسِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: 28 ت31) که اے میرے بندے ! میں جانتا ہوں کہ تجھے نفس مطمئنہ نصیب ہے اور نفس مطمئنہ کی آخری حالت یہ ہے کہ اپنے محبوب کی طرف کامل طور پر لوٹ آئے۔پس اب تیری موت تیرے لئے مصیبت کا موجب نہیں ہے۔تیری موت تیرے لئے خوشخبری لائی ہے۔آج میں تجھے یہ کہ رہا ہوں کہ تو تو ہمیشہ مجھ سے ہی اطمینان پایا کرتا تھا۔پس اے مجھ سے اطمینان پانے والے،اے میری رضا سے راضی !سن کہ میں بھی تیری رضا پر راضی ہو گیا ہوں آ اور اس جنت میں داخل ہو جا جو میرے بندوں کی جنت ہے۔پس نفس مطمئنہ کوئی واہمہ نہیں ہے جس کے متعلق آپ سمجھیں کہ پتا نہیں نصیب ہوا ہے کہ نہیں۔ایک چیز ایسی جس کو آپ ہمیشہ دیکھ سکتے ہیں وہ ان باریک باتوں سے علاوہ ہٹ کر روز مرہ کے تجربے میں ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی نیکی کو آپ ایسا اپنا لیں کہ وہ آپ کی ذات کا حصہ بن جائے، ناممکن ہو کہ اس کو اختیار کر کے آپ اکھاڑ کر پھر پھینک سکیں، اکھیڑ پھینکیں اس کو، یہ اگر ممکن نہ رہے تو یہ نفس مطمئنہ ہے۔پس نفس مطمئنہ کی تلاش میں بے شک یہ نہ سمجھیں کہ آپ کو نفس مطمئنہ کی تمام حالتیں یکدم نصیب ہوں گی لیکن یہ دیکھنا لازم ہے کہ کسی نہ کسی نیکی پر آپ کو اتنا اطمینان ہو جائے کہ پھر وہ نیکی آپ کے ہاتھ سے نہ چھوٹ سکے اس حصے میں آپ یقین کر لیں کہ آپ کو وہ نفس مطمئنہ نصیب ہو گیا ہے۔