خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 352
خطبات طاہر جلد 16 352 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997ء اس وقت دشمن یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اب ہمیں ان کی رحمت سے نہیں بلکہ ان کے اللہ سے تعلق سے مقابلہ کرنا ہے۔اگر خدا کا ان سے تعلق ہے تو پھر دکھا ئیں اپنا غضب ہم لوگوں پر۔یہ وہ وقت ہے جب رحمت سمٹ جایا کرتی ہے اور غضب ابھرا کرتا ہے۔پس ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرنا چاہئے مگر ہوتا انہی کی خاطر ہے جن کے دل اللہ سے اطمینان پاتے ہیں ان کے علاوہ نہیں ہوتا۔نفس مطمئنہ ہونا ضروری ہے اور نفس مطمئنہ کی ایک یہ بھی شان ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک شعر میں فرمایا: ہو فضل تیرا یارب یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تیری رضا ہو ( کلام محمود : 273) اس وقت اللہ تعالیٰ کے یہ بندے خدا تعالیٰ کے غضب پر بھی راضی ہو جاتے ہیں، اس کی غیرت کی بجلی پر بھی راضی ہو جاتے ہیں، وہ اپنا حال ایک طرف رکھتے ہیں اور اپنا سب کچھ خدا کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں کہ اے خدا پھر جو تو چاہے کر ہم اسی میں راضی ہوں گے مگر اس کے باوجود ان کے اندر جو خدا کی رحمت کا ایک جاری چشمہ ہے وہ بند نہیں ہوا کرتا۔یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس کو کوئی انسان بیان نہیں کر سکتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا مختلف رنگ میں اسے بیان کرنے کی کوشش بھی کی۔آپ سے جب دین کے دشمنوں نے مقابلے کئے اور وہ ہلاک ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض دفعہ ساری رات ان کے حق میں دعائیں کرتے گزار دیا کرتے تھے۔اے خدا! بڑے بد بخت لوگ ہیں مگر کسی طرح ان کو بچالے۔ان کی ہلاکت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خوشی نہیں ہوتی تھی ، خدا کا نشان پورا ہوتے دیکھتے آپ کو خوشی ہوتی تھی۔پس یہ کیفیت ہوتی ہے نفس مطمئنہ والوں کی کہ وہ خدا کی خاطر اپنا ہر سکون خدا کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں۔اپنی ہر بے قراری کو بھی خدا سے وابستہ کر لیتے ہیں۔پس باوجود بے قراری کے ان کو اطمینان رہتا ہے۔نفس مطمئنہ والوں کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بے قرار نہیں ہوتے۔آنحضرت مو کو دیکھیں کہ وہ غیروں کے لئے کتنا بے قرار ہوا کرتے تھے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ کو نفس مطمئنہ حاصل نہیں تھا !۔مگر نفس مطمئنہ کا مطلب ہے جب بھی کسی وجہ سے بے قرار ہوں گے اللہ کی خاطر