خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 347

خطبات طاہر جلد 16 347 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997ء نفس مطمئنہ ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن کو اللہ کے ذکر پر قرار آجاتا ہے اور اللہ کا ذکر اتنا پیارا لگنے لگتا ہے کہ غیر کے ذکر سے نظریں پھرنے لگتی ہیں اور اللہ کے ذکر پر آ کر نظریں ٹھہر جاتی ہیں۔اور صبح و شام ، رات دن، اٹھتے بیٹھتے ، خدا تعالیٰ کے ذکر ، اس کے احسانات ،اس کے حسن واحسان کا تصور انسان کے دل پر چھا جاتا ہے اور یہ چیزیں ایسی پیاری لگتی ہیں کہ پھر دوسری چیزوں کی طرف دیکھنے کو بھی دل نہیں چاہتا یا دیکھنے کو دل چاہے بھی تو وہ بھی اللہ کے احسان کے طور پر، اس سے زیادہ ان میں براہ راست دلچسپی نہیں رہتی۔یہ وہ کیفیت تھی نفس مطمئنہ کی آخری حالت جو حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کو نصیب ہوئی۔چنانچہ آپ کے تعلق بھی اپنی بیٹیوں سے، اپنی بہنوں، اپنے عزیزوں، رشتے داروں یعنی بہن جو رشتے میں بہنیں بنتی تھیں ان سب سے تھے مگر اس وجہ سے تھے کہ اللہ میرے ان تعلقات کو پیار سے دیکھ رہا ہے کیونکہ میں خدا کی خاطر بنی نوع انسان کے تعلقات کا حق ادا کر رہا ہوں اس بناء پر آپ کو دنیا کے رشتوں سے منہ موڑنا نہیں پڑا تعلق تو ڑنا نہیں پڑا بلکہ دنیا کے رشتے بھی قائم رہے مگر اس لئے قائم رہے کہ اللہ چاہتا تھا کہ وہ قائم رہیں۔پس آپ کی دنیا بھی آپ کا دین بن گئی اور اطمینان قلب کی اس سے بہتر حالت ہو ہی نہیں سکتی کہ دنیا بھی نصیب ہو اور دین بھی نصیب ہو مگر دنیا دین کے تابع ہو جائے اور صرف اس وقت اچھی لگے جب دین کے تابع ہو، جب دین سے ذرا بھی دنیا نے کنارہ کیا ، رخ موڑ او ہیں وہ دنیا بری لگنے لگ گئی۔پس یہ عجیب تعلیم ہے جو قرآن نے ہمیں عطا فرمائی ہے۔ہرگز قرآن یہ نہیں کہتا کہ ہندو سادھو کی طرح دنیا کو تج کر اس سے منہ موڑ کر اپنی ایک الگ دنیا بسا لو۔قرآن یہ فرماتا ہے کہ تمہیں اطمینان قلب اللہ کی یاد میں نصیب ہونا چاہئے اور اللہ کی یاد پھیلتے پھیلتے خدا کی مخلوق پر بھی چھا جاتی ہے۔جب اللہ یاد آتا ہے تو اپنے حسن و احسان کے حوالے سے یاد آتا ہے۔اللہ کی یاد جب پیاری لگتی ہے تو اس کی تخلیق کے حوالے سے وہ یاد پیاری لگتی ہے۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَ قُعُودًا وَ عَلى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ (آل عمران: 192) الله کو یادرکھنے والوں کے لئے لازم ہے کہ اللہ کی صفات کی جلوہ گری کو یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات جس طرح بنی نوع انسان میں ظاہر ہورہی ہیں، حیوانات میں ظاہر ہورہی ہیں، کائنات میں ظاہر ہو رہی ہیں، زمین و آسمان کی تخلیق میں اور کائنات کے ازل سے لے کر اب تک مسلسل ترقی کرتے چلے