خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 346

خطبات طاہر جلد 16 346 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997 ء اس طرح ڈوبتی ہیں کہ اپنے ماں باپ سے کمائی ہوئی جائیدادیں جو ان سے ورثے میں پائی تھیں وہ بھی غرق کر دیتے ہیں تو اطمینان ہے کہاں؟ حاصل میں بھی اطمینان کوئی نہیں اور لاحاصل میں بھی کوئی اطمینان نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ غور سے سنو اس بات کو ، سمجھو کہ اللہ کے ذکر میں اطمینان ہے اور اسی میں اطمینان ہے۔مگر اللہ کے ذکر میں اطمینان تب ہو سکتا ہے جب اللہ کا ذکر اچھا لگے۔اگر اللہ کا ذکر اچھا نہ لگے تو اس میں کیسے اطمینان ممکن ہے۔پس یہ ایک دوسری منزل ہے جو ایک مشکل منزل ہے جس کو طے کرنا آسان نہیں یعنی اللہ سے کیسے اتنا دل لگایا جائے کہ اس کے ذکر سے اطمینان نصیب ہو اور جب تک یہ نہ ہو انسان کے دل کو اطمینان نہیں مل سکتا۔فرمایا الَّذِينَ آمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللهِ کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے طمانیت پالیتے ہیں۔ان کے ذکر کے بعد یہ فرمایا أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔پھر فرماتا ہے۔الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ طُوبى لَهُمْ وَحُسْنُ مَابِ - یقینا یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پھر نیکیوں میں آگے بڑھنے لگے عَمِلُوا الصّلِحُتِ نیکیاں کرنے لگے طوبي لَهُمُ ان کے لئے ایک ایسا بلند مقام ہے جس پر رشک کی نظریں پڑتی ہیں۔طوبیٰ ایسے مقام کو کہتے ہیں جسے لوگ رشک سے دیکھتے ہوں وَحُسْنُ هَابِ اور بہت ہی خوبصورت لوٹ کر جانے کی جگہ ہے۔اس ساری آیت کو میں پھر مختصراً آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ اس سوال کا جواب ملے کہ ہمیں پتا تو لگے کہ اطمینان قلب یا وہ حالت جسے نفس مطمئنہ کہتے ہیں ہمیں نصیب بھی ہوا ہے کہ نہیں۔پہلی بات تو اس میں یہ ہے کہ اگر اللہ کے ذکر سے واقعی دل مطمئن ہوتا ہے تو لازماً اس کے نتیجے میں انسان کا دل دنیا سے رفتہ رفتہ ہمتا چلا جانا چاہئے۔کیوں جس چیز میں اطمینان ہو انسان اس کو اور چاہتا ہے۔پس ہرانسان اپنے دل کو جانچ سکتا ہے، پہچان سکتا ہے کہ مجھے نفس مطمئنہ نصیب ہوا تھایا وہم تھا کہ نفس مطمئنہ مل گیا ہے۔نفس مطمئنہ اگر ایک دفعہ نصیب ہو جائے تو پھر کبھی چھوڑ کر نہیں جاتا اور اطمینان میں یہ بات داخل ہے کہ وہ حالت ٹھہر جاتی ہے وہ آنی جانی نہیں رہا کرتی۔پس اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کی باتوں میں اطمینان نہیں ہے کیونکہ ان میں کوئی قرار نہیں۔کوئی خواہش پوری ہو جائے تب بھی قرار نہیں کیونکہ اس سے اگلی خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی خواہش نہ پوری ہو تو تب بھی قرار نہیں۔