خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد 16 348 خطبہ جمعہ 16 رمئی 1997ء جانے میں خدا تعالیٰ کی جو صفات ظاہر ہو رہی ہیں ان پر نظر ڈالیں جتنی اس کی نظر وسیع ہوتی چلی جائے گی اتنا ہی اللہ کے ذکر سے اس کا دل زیادہ اطمینان پاتا چلا جائے گا۔اور اسی طمانیت کے نتیجے میں اللہ کے ساتھ اللہ کی یادوں کے ساتھ دل کا قرار پکڑنا اس کی مخلوق سے بھی ایک محبت پیدا کر دیتا ہے۔اس وجہ سے نہیں کہ مخلوق سے ذاتی تعلق ہے بلکہ اس لئے کہ اللہ کی مخلوق ہے۔اب یہ دو تعلق بظاہر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے مگر بہت بڑا فرق ہے ان میں۔ایک انسان جب خدا کی مخلوق سے تعلق رکھتا ہے اور براہ راست مخلوق سے تعلق رکھتا ہے تو مخلوق کے تعلق میں اسے خدا نہیں یاد آتا مگر اللہ سے یعنی خالق سے تعلق رکھتا ہے تو مخلوق ضرور یاد آتی ہے۔یہ وہ بنیادی فرق ہے طمانیت قلب اور طمانیت قلب کے نہ ہونے کا۔اب اس بات کو پھر دوبارہ غور کر کے دیکھیں تو آپ کو جو میں سمجھانا چاہتا ہوں آسانی سے سمجھ آجائے گا۔اللہ تعالیٰ سے اگر پیار ہے تو ناممکن ہے کہ خدا کی صفات جب اپنے جلوے دکھائیں تو ان سے پیار نہ ہو کیونکہ خدا تو صفات کا نام ہے اور صفات کی جلوہ گری سے ہی ہم اللہ کودیکھتے ہیں ورنہ اللہ کی ذات تو ایک مبہم سی انہونی سی چیز ہو جائے گی جس کا صرف نام ذہن میں ہوگا اس سے زیادہ ہمیں اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔اکثر دنیا کی خرابیاں اسی وجہ سے ہیں کہ اللہ کا نام ایک دل میں موجود ہے یا ذہن میں ایک تصویر سا ہے مگر اس کی صفات کی جلوہ گری کا کوئی تصور نہیں۔اب آپ کے دماغ میں لفظ پھول آجائے تو پھول کا تصور کر کے آپ کو خوشبو تو نہیں آئے گی۔اگر آپ کے دماغ میں لفظ پھول آجائے پھول کا تصور کر کے اس کے رنگ تو نہیں آپ کو پیارے لگیں گے۔محض ایک خیال ہے۔تو بہت سے لوگ جو بظاہر مذہبی ہیں بظاہر اللہ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اللہ کی صفات پر اس سے زیادہ ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ ایک ان دیکھے، ان سے پھول پر آپ کو ایمان ہے۔ہوگا کہیں اس چمن میں کھلا ہوا۔کسی صحرا میں لالہ بھی اگ جاتا ہے آپ کو اس سے کیا مگر وہ پھول جو آپ کے قریب آجائے ، جسے آپ کی آنکھیں دیکھنے لگیں، جس کی خوشبو کو آپ کا ناک سونگھنے لگے جس کی نمس انگلیوں کو پیاری لگے، وہ پھول اور پھول کا تصور دیکھیں کتنے مختلف ہیں۔پس اللہ کی یاد دل کو اس وقت اطمینان بخشتی ہے جبکہ اس یاد کا پھول آپ کی گودی میں آجاتا ہے، آپ کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتا ہے، اس کی خوشبو آپ کے ناک تک پہنچتی ہے اور پھر اللہ کی یادصرف