خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 331
خطبات طاہر جلد 16 331 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء بِعِبَادَةِ رَبَّه اَحَدًا وہی توحید خالص کا مضمون ایک اور رنگ میں پھر آخر پر کھول کے جہاں سے آغاز ہوا تھا وہیں پر اس بات کو ختم کیا گیا کہ ہر ترقی کی جان تو حید ہے اور توحید کے لئے ایک ایک صفت کو اس کی طرف موڑ نا ہوگا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ بعض طاقتیں تمہاری کسی اور طرف منہ کر رہی ہوں بعض اور طرف منہ کر رہی ہوں اور پھر تمہیں وہ عظیم الشان کامیابیاں نصیب ہو جائیں جو آنحضرت ﷺ نے حاصل فرمائیں۔انتشار توجہ سب سے زیادہ مہلک چیز ہے جو انسان کو ہر ترقی سے محروم کرتی ہے اور انتشار توجہ کا مضمون ہے جو یہاں شرک کے حوالے سے بیان فرمایا گیا ہے جس سے روکا گیا ہے۔فرمایا تمہاری صلاحیتیں بہت عظیم الشان ہو کر ابھریں گی لیکن ان کا انتشار نہیں ہونے دینا، ان کا رخ خدا کی طرف رکھنا ہے۔پھر توحید کامل کی برکت سے یہ طاقتیں جب ایک مرکز پر اکٹھی ہوں گی تو ان سے اتنی حیرت انگیز طاقت ابھرے گی کہ تم اس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور لیزر نے ہمیں یہ دکھا دیا ہے۔لیزر مادی دنیا میں توحید ہی کا دوسرا نام ہے یا توحید کی طرف توجہ مرتکز کرنے کا ایک دوسرا نام ہے۔وہ شعائیں جو مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں لیزران کے رخ موڑنے کا نام ہے۔ساری ریڈیائی طاقتیں ، لہریں، ہر قسم کی چیزیں جب ایک خاص نقطے پر اکٹھی کر دی جائیں تو وہاں اتنی بڑی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ حسابی طور پر عام آدمی کو بیان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کتنی بڑی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔لیزر کی طاقت کو اب یہ آگے بڑھا رہے ہیں اور ایسا نظام دفاع تجویز ہو چکا ہے بلکہ ایک محدود پیمانے پر اس کی کامیابی بھی ہو چکی ہے کہ بڑے سے بڑے طاقتور جہاز کو جو نیوکلیئر ہتھیار لے کر آرہا ہو ا مریکہ کی طرف مثلاً، اس کو لیزر کے ذریعے فضا میں اس طرح اڑا دیں گے کہ آنا فانا وہ پھٹ کے پارہ پارہ ہو جائے گا کیونکہ لیزر کی شعاع اس پر پڑتے ہی اتنی بڑی طاقت کا ارتکاز ہوتا ہے وہاں کہ اسے دنیا کی مادی چیز برداشت کر ہی نہیں سکتی۔ایک دم دھماکے کے ساتھ وہ ہوا ہی میں تحلیل ہو کر ایسا پھیل جائے گا کہ اس کا گردو غبار اکٹھا کرنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔یہ لیزر کی طاقت ہے جو تو حید کا ہی کرشمہ ہے یعنی تمہیں خدا تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں کوئی صلاحیت تم نے دنیا طلبی میں اس جگہ اپنی ضائع کر دی، کوئی اس جگہ ضائع کر دی۔کچھ موقعوں پر تم نے دنیا کی حکومتوں کے سامنے سر جھکا دیئے، کچھ مواقع پر امیر لوگوں کے سامنے سر جھکا دیئے، کہیں قومی طاقتوں کے سامنے سر جھکا دیئے، کہیں نفس کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے سیاست میں ترقی کرنے کے لئے