خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد 16 332 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء اپنی صلاحیتوں کے سودے کر لئے۔تو انسان پر آپ نظر ڈالیں وہ تو بکھرا ہوا انسان ہے۔یہی سب سے بڑا انسان کی تباہی کا موجب بنا ہوا ہے۔اس ایک فقرے میں ساری انسانی ہلاکتوں کا راز آپ کے سامنے کھل جاتا ہے۔انسان بکھرا ہوا ہے اس کی صلاحیتوں کو ایک رخ میسر ہی نہیں اور کبھی کوئی رخ میسر ہوتا ہے تو بدی کی طرف ہوتا ہے شیطان کی طرف ہوتا ہے۔پس یا خدا کے بندے ہیں وہ جتنا خالص ہوں اتنا ہی ان کے ساتھ سلام کا تعلق ہوتا چلا جاتا ہے۔مسلم بننے کا جو پیغام ہے أُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ اس میں ایک دوسرا پیغام بھی ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔وہ شخص جو خدا کے لئے مسلم ہو جائے وہی ہے جو دنیا کے لئے مسلم ہوسکتا ہے۔ناممکن ہے کہ ایک انسان خدا کے لئے تو مسلم ہومگر دنیا کے لئے مسلم نہ ہو۔مسلم کا ایک معنی ہے اپنے آپ کو سپر د کر دینا۔ایک معنی ہے امن عطا کرنا کسی کو اسلام میں داخل کر لینا یعنی اس کو سلامتی میں داخل کر لینا۔تو خدا کے حضور جب انسان مسلم بنتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے اپنی ساری طاقتوں کو خدا کی طرف پھیر دیتا ہے ایک ہی نقطہ ارتکاز ہے ہستی باری تعالیٰ، اس کی تو حید اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔انسان کا انتشار ختم ہو جاتا ہے اور انتشار ہی بدامنی کا دوسرا نام ہے۔انتشار کا بر عکس سلامتی اور اسلام ہے۔تو فرمایا جب تو مسلم بنے گا تو سب دنیا کے لئے مسلم بن جائے گا تجھ سے دنیا کا امن وابستہ ہو جائے گا۔پس دنیا کا انتشار دور کرنے کی خاطر اپنے نفوس کا انتشار دور کریں۔اگر آپ کی شخصیت بکھری ہوئی ہے، پھیلی پڑی ہے آپ کو پتا ہی نہیں کہ آپ کا مقصد کیا ہے کس رستے پر آپ نے آگے بڑھنا ہے تو دنیا کو کیا الزام دے سکتے ہو۔پس یہ ساری نصیحت جو میں نے آپ کو اس آیت کے حوالے سے کی ہے اس کا خلاصہ یہی بنتا ہے کہ اپنے آپ کو سنبھالیں، اپنے انتشار دور کریں۔انتشار ہوں تو پاگل پن پیدا ہوتا ہے۔انتشار ہو تو انسان کی صلاحیتیں بکھر جاتی ہیں وہ اس کے کسی کام نہیں آتیں۔جتنے نو جوان انتشار کا شکار ہیں وہ بے چارے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔جن کی توجہ ایک مقصد کی طرف مرکوز ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ ان کو بڑے بڑے انعامات عطا فرماتا ہے۔فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرة:202) کا وعدہ ان کے سامنے ان کے لئے روزمرہ کی ایک حقیقت بن جاتا ہے جو پورا ہوتا چلا جاتا ہے۔تو جس انتشار سے میں آپ کو بچانے کی نصیحت کر رہا ہوں وہ مزاج اور طبیعت کا انتشار بھی