خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 326

خطبات طاہر جلد 16 326 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء دشمن یا شیطان تکلیف دے کر یا سبز باغ دکھا کر آپ کو نیکیوں سے ہٹانے کی کوشش کرے اور برائیوں کی طرف بلائے اور آپ نیکیوں کے ساتھ چمٹے رہیں اور برائیوں کی طرف منہ نہ کریں تو یہ صبر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے جس کے نتیجہ میں آپ کی عبادت خالص ہوتی ہے۔اگر یہ صبر نہ ہو تو عبادت خالص ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ عبادت کا ایک معنی جھک جانا ہے۔کسی اور کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔تو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم نے عبادت کے راز مجھ سے سیکھنے ہیں اور مجھ ہی سے سیکھو گے تو مجھے تو خدا کا یہ حکم ہے کہ اپنی عبادت کو اللہ کے لئے خالص کرلوں جس کا مطلب ہے کہ ایک شائبہ بھی کسی اور چیز کی تمنا کا میری عبادت میں دخل نہ دے سکے، ایک شائبہ بھی کسی اور چیز کے خوف کا میری عبادت میں دخل نہ دے سکے ، تو حید خالص اس عبادت کا نام ہے۔پس فرمایا کہ مجھے تو توحید خالص کا حکم دیا گیا ہے۔ایسی عبادت کروں جس میں کسی غیر کے خیال کا ، تصور کا ، خواہ وہ حرص کے ساتھ ہو، خواہ وہ خوف کے ساتھ ہو شائبہ تک بھی نہ ہو۔وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ اور اس مضمون میں مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی سے پیچھے نہیں رہنا۔جتنے دنیا میں انبیاء آئے ہیں سب یہی کام کیا کرتے تھے مگر اے محمد ! تو سب سے بعد میں آیا ہے اور سب سے آگے بڑھ جانے کا حکم تجھے دیا گیا ہے، رکنا نہیں اس رستے پر یہاں تک کہ اول المسلمین ہونے کا تیرا اعلان نہ ہو۔پس یہ کتنا عظیم الشان مضمون ہے۔ایک ایسے مضمون کو جو عامۃ الناس سے ان نیک مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے جو دکھ دیئے گئے ، جو آزمائے گئے اس کو کس طرح خدا نے سمیٹتے ہوئے ، بڑھاتے ہوئے آنحضرت می پر منتج کر دیا اور اسلام کی ایک وہ تعریف کر دی ہے جو سب سے اعلیٰ تعریف ہے کیونکہ عبادت خالص ہی اسلام کا دوسرا نام ہے۔خالص عبادت کا مطلب ہی اسلام ہے یعنی سوائے خدا کے کسی کے سامنے سر نہ جھکانا ، خدا کے سوا کسی کے حضور اپنے آپ کو سپرد نہ کرنا یہ اسلام ہے۔تو عبادت اور اسلام کا جو گہرا تعلق ہے وہ ظاہر فرمایا گیا ہے ان آیات میں۔وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِینَ یہ کوئی نیا حکم نہیں ہے۔عبادت خالص کرنے کے مضمون کو اپنے منتہی تک پہنچا دیا گیا ہے۔کہہ دو کہ ایسی خالص عبادت کا حکم دیا گیا ہے کہ کبھی دنیا میں کسی عبادت کرنے والے نے تیری خالص عبادت کا ایسا حق ادا نہ کیا ہو۔نہ ابراہیم کو تو فیق ملی ہو کہ میری طرح عبادت کر کے دکھائے ، نہ موسیٰ کو ملی ہو، نہ اس سے پہلے