خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد 16 325 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء ہے وہ روحانی صبر ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو بڑی وضاحت کے ساتھ کھولا ہے کہ اصل صبر وہ ہے جو انسان نیکیوں پر صبر کر جائے اور دنیا کی مصیبتوں کے وقت بھی دراصل صبر کا یہی معنی ہے جو اولیت رکھتا ہے۔محض صبر کر جانا تو اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں۔ایک شخص مجبور ہے اس کو پولیس مار مار کر ہلاک کر دیتی ہے ، اس کو اتنا عذاب دیتی ہے کہ وہ ان دکھوں میں مرجاتا ہے اور جو اقرار نکلوانا چاہتی ہے اس کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ میرے پاس وہ اقرار ہے بھی کہ نہیں یا جس جرم کا اقرار کروانا چاہتی ہے بعض دفعہ جرم کا بے چارے کو پتا ہی نہیں ہوتا۔تو آپ کہہ سکتے ہیں بڑا صبر کیا ہے اس نے۔کہہ سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں کہہ سکتے۔وہ تو بے چارہ بے اختیار ہے، مجبور ہے، ظالموں کے پنجے میں جولوگ آجائیں ان کے ساتھ اس طرح ہوتا رہتا ہے مگر خدا کی خاطر نہ انہوں نے پہلے زندگی بسر کی تھی نہ اس ظلم کا شکار خدا کی خاطر بنائے گئے ، نہ کوئی صبر کا موقع تھا اس لئے صبر کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔مگر وہ احمدی جو پولیس کی حراست میں ذلیل کئے گئے ، رسوا کئے گئے ، ان کو جوتیوں سے مارا گیا، ان کو الٹا لٹکایا گیا اور وہ اس بات پر قائم رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچے ہیں تم جو چاہو کر لو۔نہ لا اله الا اللہ کا انکار ہوگا، نہ مسیح موعود کا انکار ہو گا۔یہ وہ صبر کا مضمون ہے جو دنیا میں دکھوں کے صبر کے ساتھ نیکیوں کے صبر کے ساتھ مل گیا ہے گویا دو الگ الگ باتیں نہ رہیں۔پس جس صبر کی خدا تعریف فرما رہا ہے اس میں نیکیوں پر صبر ہونا ایک لازمی حصہ ہے اس کا۔اس صبر کی سرشت میں داخل ہے۔محض صبر کوئی چیز نہیں۔اللہ کی خاطر صبر ہو تو ضرور نیکیوں پر صبر ہوگا، حق پر صبر ہوگا اور اس کے متعلق وعدہ ہے کہ جب یہ صبر کرو گے تو دنیا میں بھی تمہارا کامیابی کا اعلان کر دیا جائے گا اور تم سے نیک سلوک اس دنیا میں شروع ہو جائے گا اور جو بعد میں آنے والا ہے اس کا تو حساب ہی کوئی نہیں۔اس لئے فرمایا قُلْ اِنّى اَمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لهُ الدِّينَ تو کہہ دے کہ مجھے تو عبادتوں پر استقلال کرنے اور ہمیشہ ان پر قائم رہنے اور محض اللہ کے لئے خالص رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کا صبر، چونکہ صبر ہی کا مضمون چل رہا ہے وہ عبادتوں پر صبر کا مضمون ہے اور ایسی عبادتوں پر صبر جو اپنے خلوص کے لحاظ سے کامل ہو چکی ہوں ان سے بہتر عبادت کا تصور ممکن نہ ہو۔اَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ دین کو بس اسی کے لئے خالص کر دوں۔پس حقیقی تو بہ کا بھی الله اس عبادت سے تعلق ہے اور حقیقی توبہ کا بھی صبر سے تعلق ہے ،صبر کے دونوں معنوں سے تعلق ہے۔