خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 321
خطبات طاہر جلد 16 321 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء لوگ نیک اعمال بجالائیں گے نیکیاں کریں گے۔فی هذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً کا ترجمہ دو طرح سے کیا جاتا ہے ایک جو رائج ترجمہ ہے وہ یہ ہے کہ جو اس دنیا میں نیکیاں کریں گے۔حَسَن ان کو اس دنیا میں ملے گی جو آنے والی دنیا ہے اور یہ رائج ترجمہ اس لئے ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کے سامنے ایک وقت ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ مومنوں کو تو دوسری دنیا کی خوشخبریاں دی جاتی ہیں اور اگر صرف اس دنیا میں ہی حَسَنَةٌ ملنی ہے تو اس کا فائدہ کیا ہوا پھر۔اس لئے اس احتمال سے گھبرا کر ترجمہ کرنے والے یہ ترجمہ کر جاتے ہیں۔لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ جو اس دنیا میں نیک عمل کرتے ہیں حَسَنَةٌ ان کے لئے حَسَنَةٌ ہے۔وہ کب ہے؟ ذکر تو نہیں مگر وہ کہتے ہیں صاف ظاہر ہے کہ اگلی دنیا میں حَسَنَةٌ کا وعدہ ہے۔میرے نزدیک یہ ترجمہ درست ہونے کے باوجود ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔اولین ترجمہ وہی ہے جو آیت کے ظاہری بیان سے ظاہر و باہر ہے۔لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وہ لوگ جنہوں نے حسن عمل اختیار کیا، اپنی خوبیوں کو اور آگے بڑھایا ان کو حسین تر بنالیا ان کے لئے فی هذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ان سے کوئی مستقبل کا وعدہ نہیں ہے، وہ تو ہے ہی مگر اور رنگ میں۔ان کو اگلی دنیا کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا اس دنیا میں وہ حسنہ دیکھ لیں گے اور ان کی نیکی کا بدلہ نقد نفذ اسی دنیا میں ان کو عطا کیا جائے گا۔یہ مضمون بتا رہا ہے کہ خاص قسم کے لوگ پیش نظر ہیں ایک خاص طبقہ ہے نیکی کرنے والوں کا جو اس وقت خدا تعالیٰ کے پیش نظر ہے اور اس مضمون کو اس آیت کا اگلا حصہ کھول رہا ہے یعنی اس طرز بیان کی چابی در اصل وَأَرْضُ اللهِ وَاسِعَةٌ میں ہے۔وَاَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ کا مضمون ہجرت سے تعلق رکھتا ہے اور ان آیات کریمہ میں بیک وقت دنیوی ہجرت اور روحانی ہجرت دونوں ہی بیان فرمائی جارہی ہیں۔پس صبر کا مضمون بھی ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہے جو روحانی ہجرت کرتے ہیں یا جسمانی ہجرت کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں ہجرت کرنے دی نہیں جاتی۔تمہید کے ساتھ ، جب یہ آیات آپ کے سامنے، آگے ترجمے کے ساتھ پیش کی جائیں گی یعنی ابھی جو میں بیان کر رہا ہوں جب ان کا ترجمہ آگے بڑھے گا تو پھر آپ کو صاف دکھائی دینے لگے گا کہ جو میں نے ترجمہ کیا ہے نہ صرف یہ کہ بعینہ درست بلکہ بہت برحل ہے اور واقعہ یہی مضمون ہے جو قرآن کریم اول طور پر ہمارے سامنے کھولنا چاہتا ہے۔لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا یہاں قومہ اگر انگریزی کی طرح عربی میں ہوتا تو یہاں قومہ ڈالا جاتا۔