خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 322
خطبات طاہر جلد 16 322 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا جن لوگوں نے حسن عمل اختیار کیا، جنہوں نے اپنے آپ کو خدا کے حضور مزید خوبصورت کر کے دکھایا۔فی هذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ اسی دنیا میں ان کو خوبصورتی کی جزاء خوبصورتی کے ساتھ دی جائے گی۔وَاَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔اگر ہجرت کا مضمون نہ ہو اور نیکیوں کا تعلق خصوصیت کے ساتھ ہجرت کے ساتھ نہ ہو یا ان حالات سے نہ ہو جن حالات میں ہجرت کی مجبوری در پیش آتی ہے تو وَ اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةٌ کہنے کا کیا موقع تھا یہاں۔اِنَّمَا يُوَفِّى الصُّبِرُونَ أَجْرَهُمُ بِغَيْرِ حِسَابِ صاف پتا چلا کہ کوئی صبر کا مضمون ہے، بہت تکلیف کا مضمون ہے اور جب تکلیف دہ حالات ہیں اس وقت اگر انسان نیکی کرتا ہے تو اگلی دنیا کا وعدہ کوئی دل کو تسلی نہیں دیتا لاز ما اس دنیا میں ان کو تسلی ملنی چاہئے اور اس دنیا کی جزاء کا وعدہ صبر کے ساتھ ان لوگوں کے ساتھ جو نہایت مخالف حالات میں نیکیوں سے چھٹے رہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیفیں برداشت کرتے چلے جاتے ہیں، ان کے ساتھ اس دنیا کا وعدہ ایک لازمہ ہے جو قرآن کریم کا ایک دستور ہے۔چنانچہ وہ آیات جو آپ کے سامنے کئی دفعہ پڑھی جاتی ہیں اور میں اس پر بعض خطبات بھی دے چکا ہوں۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدة: 31) یہ جو وعدہ ہے یہ آخرت کا وعدہ ہے مگر نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ( حم السجدة :32) مستقبل کا وعدہ نہیں رکھا گیا صرف۔فرشتے یہ کہتے ہوئے ایسے صبر کرنے والے بندوں پر نازل ہوتے ہیں جو استقامت دکھاتے ہیں، استقامت اور صبر ایک ہی مضمون کے دو اظہار بیان ہیں۔کہتے ہیں ہم اب اس دنیا میں بھیجے گئے ہیں تمہارے ساتھ رہنے کے لئے تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔فی هذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ آخرت میں بھی ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔پس دنیا میں تسلی دلانا ان لوگوں کے لئے جو دکھوں میں مبتلا ہوں بہت سے امتحانات در پیش ہوں مگر دو باتوں میں صبر اختیار کریں۔اپنے اقرار کو جو خدا سے کئے ہیں ان کو نہ بھولیں ، اپنے وعدوں کو پورا کریں اور جو چاہے دنیا ان پر مصیبتیں تو ڑتی پھرے وہ اپنے عہد بیعت پر قائم رہیں یعنی اللہ تعالیٰ