خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 320

خطبات طاہر جلد 16 320 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء سے کھول کھول کر سامنے رکھا ہے کہ کسی کی نظر کسی نہ کسی پہلو کو تو ضرور پکڑلے گی۔انسانی فطرت میں جتنے بھی اثر قبول کرنے کے رستے ہیں ایک ہی مضمون کو قرآن کریم نے ان سب رستوں کی مناسبت سے بیان فرمایا ہے۔اس لئے بعض لوگ جو سمجھتے ہیں کہ تکرار ہے قرآن کریم میں ، بہت بے وقوف ہیں کیونکہ کسی ایک جگہ بھی قرآن کریم کے مضمون میں کوئی تکرار ان معنوں میں نہیں کہ مضمون بیان ہو گیا اب کوئی ضرورت نہیں دوبارہ بیان کرنے کی۔تکرار کی دو حکمتیں ہیں جو بیک وقت دونوں ہی قرآن کریم کے طرز بیان میں کارفرما ہیں۔ایک یہ کہ ایک چیز کو جب بار بار بیان کیا جائے تو وہ بالآخر دل پر اثر کر جاتی ہے۔فَذَكِّرُ اِنْ نَّفَعَتِ الذكرىی (الاعلیٰ : 10) نصیحت کر اور کرتا چلا جا۔یقین رکھ کہ بالآخر نصیحت ضرور اثر انداز ہوگی اور ایک تکرار قرآن کریم کی ایسی ہے جس میں کروٹیں بدلی گئی ہیں اور دیکھنے والے کو بسا اوقات پتا بھی نہیں چلتا مگر ہر آیت اپنے رنگ میں اپنا مضمون اور اپنا اثر دکھا جاتی ہے اور عمومی طور پر انسان کو یہ نقشہ سمجھ نہیں آتا کہ تکرار کیوں ہورہی ہے۔پس اس پہلو سے جب آپ قرآن کریم کا مطالعہ کیا کریں تو آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ قرآن کریم نے کس طرح ہر مضمون کو مختلف رنگ میں بیان فرما کر ہماری فطرت کے ہر دروازے سے مضمون کو داخل فرمایا ہے۔یہ آیت کریمہ جن دروازوں سے ایک پیغام پہنچا رہی ہے وہ ان سے کچھ مختلف ہیں جو میں نے پہلے آپ کے سامنے قرآن ہی کے حوالے سے رکھے تھے۔فرمایا: قُلْ يُعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمُ کہہ دے اے محمد رسول اللہ اللہ یعنی مراد مخاطب رسول اللہ لی ہیں ، کہہ دے کہ اے میرے بندو! جو ایمان لے آئے ہو اتَّقُوا رَبَّكُمُ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو حالانکہ ایمان لانے والوں کی شرط میں تقویٰ داخل تھا۔پس عجیب بات ہے کہ مخاطب ایمان لانے والے ہیں اور تقویٰ کی تلقین کی جارہی ہے اور یہ پہلی بار نہیں قرآن کریم نے بارہا اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا ایمان لانا کافی نہیں ہے باوجود اس کے کہ ایمان خالص ہو۔لِعِبَادِ کا مضمون خالص ایمان کے بغیر بیان ہو ہی نہیں سکتا تھا۔یایھا الناس نہیں فرما یا يُعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اے میرے بندو! جن کو میں نے اپنے لئے چن لیا ہے پھر بھی تمہیں متوجہ کرتا ہوں کہ یہ کافی نہیں۔تقویٰ ایک نہ ختم ہونے والا مضمون ہے۔اتَّقُوا رَ بَّكُمُ تقویٰ کی راہ پر اور آگے بڑھتے رہو۔یہ مضمون ہے جو دراصل یہاں پیش نظر ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ (النحل : 31) جو