خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 314
خطبات طاہر جلد 16 314 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء سے اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔نفرت سے بتاتی ہیں جس کے پیٹ سے اور نفرت پیدا ہوتی ہے اور اس طرح بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کو اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرنے میں مدد بنا، فائدہ پہنچائے الٹا نقصان پہنچا دیتا ہے۔پس سب سے اچھا علاج یہ ہے کہ خود جاگیں کیونکہ اگر آپ جاگ کر اپنے آپ کو دیکھیں گے اور اپنے آپ کو بد کہیں گے تو اس کا غصہ کسی پر نہیں ٹوٹے گا۔آپ کا نفس آپ کے خلاف بغاوت نہیں کرے گا بلکہ صرف آپ ہیں جس کے سامنے آپ کا نفس سر جھکا سکتا ہے۔پس اس سے زیادہ اور کوئی نصیحت ممکن نہیں کہ توابین میں ہو جائیں۔توابین سے مراد یہ نہیں ہے کہ لوگ ان کو توجہ دلا رہے ہوں۔توابین کا مطلب ہے وہ خود اپنے دل میں اپنی کمزوری کا ایک احساس بیدار کر لیں کہ اپنی کمزوری سے خود شرمندہ ہونے لگیں۔اپنی بیماری کے احساس سے وہ دور بھاگنے لگیں اور اس گھبراہٹ میں وہ چاہیں کہ وہ ٹھیک ہو جائیں اور یہ مثال صرف روحانی بیماریوں میں نہیں ، جسمانی بیماریوں میں بھی ہمیں اسی طرح دکھائی دیتی ہے۔ایک انسان جس کے اندر کینسر پل رہا ہے بسا اوقات غفلت کی حالت میں رہتا ہے تو کینسر اس کو دکھائی بھی نہیں دیتا۔اب جب میں یہاں آ رہا تھا تو ایک دن پہلے مجھے ایک خاندان والے ملنے آئے اور اپنے ایک عزیز کے متعلق انہوں نے یہی بتایا کہ کینسر تھا لیکن ایک لمبے عرصے سے جس کو کینسر تھا اس کو پتا ہی نہیں چلا کیونکہ بعض دفعہ اگر شوگر کی بیماری یعنی ذیا بیطس ہو تو درد کے احساس میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور وہ جو باریک ریشے نسوں کے درد کی کیفیت کو دماغ کی طرف منتقل کرتے ہیں ان کے او پر شوگر یعنی میٹھا جسم جسم کے انہیں ماؤف کر دیتے ہیں۔وہ ماؤف ہونے کی وجہ سے باوجود اس کے کہ تکلیف موجود ہے آگے اس کے دماغ کو اطلاع نہیں کرتے۔چنانچہ جس مریض کی بات ہو رہی ہے اس کو بھی ذیا بیطیس تھی اور ڈاکٹروں کا یہی خیال ہے کہ اس وجہ سے وہ کینسر اندر اندر پھیلتا رہا ہے اور پتا بھی نہیں لگا اور اب جو منزل پہنچ گئی وہ ایسی ہے کہ جس کے متعلق ڈاکٹروں نے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔انہوں نے کہا نہ دو ممکن ہے نہ ہم تیار ہیں کسی قسم کی دوا کی کوشش کرنے کیلئے کیونکہ اب جو بھی ہم اصلاح کرنے کی کوشش کریں گے اس کی تکلیف میں اضافہ ہوگا۔تو دیکھو تو بہ کا وقت بعض دفعہ اس طرح گزر جاتا ہے کہ جن کو خدا تعالیٰ نے اصلاح کی