خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 313 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 313

خطبات طاہر جلد 16 313 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء جس ہجرت کا ذکر فرمایا ہے وہ تو بالکل برعکس ہے۔پس یہ وہ ہجرت ہے جس کے ذریعے تعداد بڑھنی چاہئے اور یہ ہجرت اندرونی طور پر بھی دکھائی دینی چاہئے اور بیرونی طور پر بھی دکھائی دینی چاہئے۔اندرونی طور پر اس طرح کہ آپ میں ہر روز ایسے نوجوان، ایسے بوڑھے مرد اور عورتیں بلکہ بچے بھی پیدا ہوں جو اپنے اندر یہ پاک تبدیلی پیدا کریں، یہ عہد کر لیں ایک دن، جاگ اٹھیں۔اپنی برائیوں کی فہرست بنائیں اور معلوم کریں کہ ان کی شکل ہے کیا۔ایک وہ شکل ہے جو وہ دنیا کو دکھاتے ہیں باوجود کوشش کے پھر بھی اس کے سارے عیوب چھپا نہیں سکتے لیکن ایک وہ شکل ہے جو اپنے اندر چھپائے بیٹھے ہیں وہ شکل اس سے بہت زیادہ بھیانک ہے جو دنیا دیکھ رہی ہے اور اس شکل کو دیکھے بغیر اس کے داغ دور کرنے کی طرف توجہ کیسے پیدا ہو سکتی ہے اور سب سے زیادہ اس شکل کو دیکھنے والا خدا تعالیٰ ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے جو ہر انسان کے اندرونہ کی تفصیل جانتا ہو وہ ایسی ایسی باریکیوں کو بھی جانتا ہے، ایسے ہلکے داغوں کو بھی دیکھ رہا ہے جو خود انسان کی اپنی نظر میں ہی نہیں آسکتے۔مگر خدا کے بعد اگر کوئی ہے تو ہر شخص خود ہے جو چاہے تو اپنے داغ دیکھ سکے مگر مصیبت ہے اور بہت بڑی مصیبت ہے کہ داغ دیکھ سکتا بھی ہے تو دیکھتا نہیں اور اگر کوئی توجہ دلائے تو اس کے خلاف غصہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو اپنے داغ دیکھ تیرے اندر کتنے کتنے داغ ہیں خواہ اس نے نیکی اور بھلائی کی خاطر بات کی ہو مگر جب کسی کی کمزوری اس کو یاد دلائی جائے تو بڑے غصے سے بھڑک اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ تو کون ہوتا ہے میرے معاملات میں دخل دینے والا ، اپنا حال دیکھ اور بسا اوقات جس کو کہتا ہے اپنا حال دیکھ نہ وہ اپنا حال دیکھتا ہے نہ یہ اپنا حال دیکھتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا میں نے بہت غور کیا ہے ان معاملات پر اور گہری نظر سے میں دیکھتا ہوں کہ اکثر نصیحت کرنے والے حقیقت میں نیک نیتی سے نہیں کرتے بلکہ جب ان کو کوئی غصہ ہو، جب ناراضگی ہو تب وہ دوسرے کو اس کی برائیاں دکھاتے ہیں اس سے پہلے خاموش بیٹھے رہتے ہیں اس لئے پہلا قدم ہی منحوس ہے۔عورتوں کے معاملات میں تو خاص طور پر یہ بات صادق آتی ہے۔بڑے گہرے تعلقات ہوتے ہیں اور ایک دوسری کی برائیاں جانتی ہیں بلکہ بعض دفعہ مبالغہ کر کے بھی دیکھ رہی ہوتی ہیں لیکن جب تک آپس میں اختلاف نہ ہو، جب تک کوئی انتقام نہ لینا ہو اس وقت تک وہ برائی بتاتی نہیں ہیں اور جب بتاتی ہیں تو غصے کی وجہ سے بتاتی ہیں جس