خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 315
خطبات طاہر جلد 16 315 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء صلاحیتیں بخشی ہوں وہ بھی ہاتھ اٹھا لیتے ہیں کہ ہم میں طاقت نہیں رہی اور جو ذیا بیطس ہے یہ کوئی جسمانی بیماری صرف نہیں بلکہ روحانی بیماری بھی یہی ہے۔دنیا کے میٹھے کی چاٹ پڑ جانا ایسے انسان کو اپنی اندرونی کڑواہٹوں کے احساس سے بے خبر کر دیتا ہے اور روحانی بیماریاں موجود ہیں مگر انکا دکھ محسوس نہیں کرتا ، جب وہ دکھ محسوس نہیں کرتا تو بسا اوقات وہی حال ہوتا ہے جو اس مریض کا ہوا جس سے متعلق اس کے عزیز گھبرائے ہوئے میرے پاس پہنچے کہ اب تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہمیں پتا ہے کیا ہے لیکن ہم نے اصلاح کی کوشش بھی نہیں کرنی کیونکہ اب وقت گزر چکا ہے۔تو پیشتر اس کے کہ وہ وقت گزر جائے جب کہ اس کی بیماریاں بالآخر سر اٹھائیں اور دکھائی دینے لگیں اور بہت طبیعت کو بری لگیں لیکن ان کی اصلاح کا وقت نہ ہو تو خواہ موت اچانک آجائے یا ایسے وقت میں بیدار ہو انسان کہ جب اصلاح کا وقت گزر چکا ہوتا ہے اس سے پہلے پہلے بیدار ہونے کی ضرورت ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اپنے نفس کو خود پہچانیں اور خود اس کو پکڑیں کیونکہ بیرونی آواز کے خلاف آپ کو ضرور ردعمل ہوگا اور بہانے بنانا تو انسان کی فطرت میں ایسا داخل ہے کہ اگر یقین بھی ہو کہ سمجھانے والا خالصہ نیک نیت سے سمجھا رہا ہو پھر بھی اسکو جواب میں یہی کہتے ہیں کہ جی آپ کو نہیں پتا، نا انصافی ہو گئی ہے غلط رپورٹیں کرنے والوں نے آپ کو ہم سے بدظن کر دیا ہے۔چنانچہ اکثر میرا یہی تجربہ ہے۔بعض دفعہ کسی کے متعلق شکایتیں پہنچتی ہیں کہ یہ حال ہو گیا ہے اس کا سوسائٹی اس سے بیزار بیٹھی ہے اس کو سمجھانے کی کوشش کریں تو جب سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو ان کے لمبے چوڑے خط آتے ہیں کہ آپ کو تو لوگوں نے یک طرفہ باتیں کر کے بہکا دیا ہے ہم تو ایسے نہیں۔ہم تو بالکل صاف ستھرے اور پاک لوگ ہیں ،صاف انکار کر دیتے ہیں حالانکہ ساری سوسائٹی گواہ ہوتی ہے کہ وہ حد سے گزر چکے ہیں اب لیکن آدمی یہ بھی نہیں کہ سکتا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو کیونکہ بعض دفعہ جھوٹ کا بھی انسان کو نہیں پتا چلتا۔اپنے دفاع میں واقعہ انسان اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔جو سخت جھوٹا ہے اس کو بھی آپ جھوٹا کہیں تو بعض دفعہ ایسار عمل دکھاتا ہے کہ خون لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، ہیں !تم کون ہوتے ہو مجھے جھوٹا کہنے والے یعنی وہ شخص جس کو ساری دنیا جھوٹا جانتی ہے اس کو اگر منہ پر کہہ دیا جائے کہ جھوٹا ہے تو اس کو برداشت نہیں کرتا۔تو انسانی بیماریوں کا تو یہ حال ہے اور ہمیں پیدا کیا گیا ہے ان کو دور کرنے کے لئے ، اس