خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 312

خطبات طاہر جلد 16 312 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء دوبارہ اس کا خیال تک دل میں نہ لائے اور یہ تب ممکن ہے کہ پاک ہونا چاہے اور پاک ہونے کی خواہش دل میں پیدا ہو جائے یعنی بدیوں کی خواہش کی بجائے نیکی کی خواہش پیدا ہو جائے اور انسان واقعۂ دل سے چاہے کہ وہ اچھا ہو جائے۔ایسے شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ کہ اللہ تعالیٰ ایسے پاک ہونے والوں سے محبت کرتا ہے۔پس اللہ کی محبت جس قوم کو نصیب ہو جائے اس کی فتح ہی فتح ہے۔جس سے خدا محبت کرنے لگے اس پر دنیا کی نفرتیں غالب آہی نہیں سکتیں۔مگر ایسے ہیں تھوڑے اور ضرورت ہے کہ تیزی سے ان کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ہالینڈ ہی کی مثال کو پھر لیتے ہیں کیونکہ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اس مضمون کو ہالینڈ کے حوالے سے آپ کے سامنے رکھوں گا۔ایک لمبے عرصے سے میں یہاں تحریک کر رہا ہوں کہ تبلیغ کرو اور تبلیغ کے ذریعے روحانی اولاد پیدا کرو اور ایک لمبے عرصے سے جب بھی آتا ہوں ہمیشہ بھاری دل سے آپ سے شکوہ کرتاہوں کہ تبلیغ آپ نے کی تو ہوگی کیونکہ رپورٹوں میں کہیں کہیں دکھائی دیتی ہے مگر عملاً اس کے پاکیزہ پھل مجھے نظر نہیں آرہے ، جیسی جماعت پہلے تھی ویسی ہی ہے۔جب پوچھا جائے کہ بتاؤ کتنی بڑھی ہے تو کہتے ہیں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تئیں یا چالیس یا پچاس کا اضافہ ہوا ہے۔جب پوچھا جائے کہ وہ کیسے ہوا تو بتاتے ہیں کہ پاکستان سے ہجرت کر کے لوگ آئے ہیں۔حالانکہ مجھے پاکستان سے ہجرت کرنے والوں کی نسبت ان لوگوں سے بہت زیادہ دلچسپی ہے جن کی ہجرت میں محمد رسول اللہ ﷺ نے دلچسپی ظاہر فرمائی اور وہ ہجرت بدوطن سے ہجرت کر کے نیک وطن میں داخل ہونا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کو جس ہجرت میں دلچسپی ہے اور لوجس ہمیشہ رہے گی کیونکہ آپ اس پہلو سے ایک زندہ نبی ہیں، آپ کی دلچسپیاں بھی قیامت تک زندہ رہیں گی اس پیمانے سے جب دیکھا جائے تو مجھے یہ بات بھلا کیا خوش کر سکتی ہے کہ اضافہ ہوا ہے ماشاء اللہ پاکستان سے ہیں تمہیں، چالیس، پچاس ہجرت کرنے والے یہاں آگئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جنہوں نے پاکستان سے ہجرت کی، یہاں آنے کے بعد ان کی ہجرت کس طرف ہے۔اگر ان کے معصوم بچے یہاں کی تربیت حاصل کر کے ، ان کی معصوم بچیاں ان کے ماحول میں مل جل کر وہ بے دین ہونے لگیں اور نفسانی آزادی اور نفسانی خواہشات کی بے دھڑک پیروی کرنا ان کے نصیب میں لکھا جائے تو یہ ہجرت کیسی ہجرت ہے۔یہ تو اچھے شہر سے برے شہر کی طرف ہجرت ہوگی اور آنحضرت ﷺ نے۔الله