خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 311
خطبات طاہر جلد 16 311 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء قرآن کریم فرماتا ہے اس آواز پر لبیک کہنے والے کچھ ضرور پیدا ہوئے اور وہ لبیک کہنے والے شروع میں تھوڑے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خلوص کو قبول فرمایا فَأَصْبَحُوا ظهرین وہ جو تھوڑے تھے وہ غالب آگئے۔یہ تاریخ ہے ساری عیسائیت کے غلبے کی اور اس غلبے کے آغاز کی اور اس کا آغاز کیسے، کسی جگہ سے شروع ہوا؟ عیسائیت کے غلبے کا آغاز حضرت مسیح کے دل سے ہوا ہے اور دل کی اس بے قراری سے ہوا ہے جس کا اظہار قرآن کریم نے حضرت عیسی علیہ السلام کی اس دعا کی صورت میں ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمالیا مَنْ أَنْصَارِی إِلَى اللهِ۔کون ہے جو خدا کے نام پر میری مدد فرمائے ، خدا کے کام کے لئے میری مدد کو آگے آئے تو یہی وہ آواز ہے جو اس دور کے مسیح نے بھی دی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی آواز کو دوبارہ اٹھایا ہے لیکن کام اس سے بہت زیادہ ہے جتنا مسیح اول کو در پیش تھا۔مسیح اول کے سپر دتو بنی اسرائیل کی بدیوں کو دور کرنا تھا اور بنی اسرائیل کی محدود ضرورتوں کو پورا کرنا تھا مگر مسیح محمدی کا کام تو سارے جہان میں پھیلا پڑا ہے اور بدیوں نے جس جس طرح سر اٹھایا ہے اور جس نئے رنگ میں ظاہر ہوئی ہیں وہ اتنی زیادہ اور اتنے خوفناک انداز کے ساتھ اٹھی ہیں کہ ایک ایک ملک کو بدیوں میں غرق کر دیا گیا ہے اپنے طوفان اور اپنے سیلاب میں۔آپ جو ہالینڈ میں بستے ہیں ہالینڈ کے گردو پیش کا جائزہ لیں اور ہالینڈ کے شہروں میں جو بدیاں ہر روز ہو رہی ہیں، جس طرح قوم کا مزاج بگڑ رہا ہے، جس طرح یہ مزاج بگڑتے بگڑتے اب ایک عوامی شناخت اختیار کر گیا ہے یعنی قوم ان بدیوں کو برانہیں دیکھ رہی اور ان کی طرف بڑھنے کو اور ان کو ٹیلی ویژن پر اور اپنے نیوز میڈیا کے ذریعے دنیا کو دکھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی اور ہر قدم پہلے سے اور آگے اسی سمت میں بڑھ رہا ہے۔پس ان سب کا رخ موڑنا اور انہیں اسلام کی طرف واپس لے کے آنا کیسے ممکن ہے اگر آپ خود تو بہ کر کے الْمُتَطَهِّرِينَ میں داخل نہ ہو چکے ہوں۔تو دراصل کام بے انتہا زیادہ ہے اتنا کہ اس کا شار ممکن نہیں مگر حل اس چھوٹی سی آیت میں پیش کر دیا گیا ہے۔وہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو اللہ کے دین کا ناصر بنانا چاہتا ہے، جو اعلان کرتا ہے کہ میں انصاری الی اللہ میں سے ہوں اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ تو بہ کرے اور توبہ کر کے اپنی پہلی زندگی سے منہ موڑلے اور ایسا منہ موڑے کہ پھر