خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 304

خطبات طاہر جلد 16 304 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء آتا ہے جب میں اس حالت سے نکل کر باہر آ کر دنیا کو السلام علیکم کہ دیتا ہوں۔کہتا ہوں شکر ہے میں واپس آ گیا اور داخل ہونے کا وقت میرے لئے سب سے مشکل ہے اور اس دوران میری طبیعت بوریت کے سوا کچھ بھی محسوس نہیں کرتی کیونکہ جو کچھ بھی میں کہتا ہوں وہ لفظوں میں کہہ رہا ہوں۔کوئی سننے والا میرے سامنے کھڑا نہیں ہوتا جس کو میں کچھ سنا کر بات کہوں اور اس کی طرف سے کوئی جوابی لہر دل میں نہیں اٹھتی جس سے محسوس ہو کہ کوئی سنے والا سن بھی رہا تھا اور اس نے میرے دل میں ایک حرکت پیدا کر دی ہے۔پس ایسی نماز میں اگر چہ ابتداء فرض کی ادائیگی تک تو ٹھیک ہیں لیکن اپنی منفعت کے لحاظ سے بالکل خالی ہوا کرتی ہیں۔سالہا سال، بعض لوگ اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں ایسی نمازیں پڑھتے ہوئے، پانچ وقت وضو کر کے جائیں گے پورے اہتمام کے ساتھ نماز پڑھیں گے اور پھر جب نکلیں گے تو خالی اور اس کی پہچان کیا ہے؟ پہچان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں جا کر اس سے آنے کے بعد ان کے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔پس بعض لوگ ایسے ہیں جو یہ معلوم کریں گے کہ ہم مالی حرص میں مبتلا اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیوں سے بے خبر بلکہ طبیعت پر ان قربانیوں کے نام سے بھی بوجھ پڑتا ہے۔کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اس لحاظ سے پورے لیکن عبادت سے بے خبر اور غافل اور عبادت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنے کا تصور ہی ان میں نہیں ہے۔یہ ان کو خیال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ہر عبادت کے بعد کچھ نہ کچھ مجھے اللہ کے قریب ہونا چاہئے۔اگر زیادہ توفیق نہیں تو کچھ احساس، حاصل کا احساس یعنی کچھ ھل گیا ہے اتنا تو ہو کہ نماز کے بعد میں محسوس کروں کہ آج مجھے کچھ خدا تعالیٰ کے قریب ہونے کی لذت حاصل ہوئی ہے اور یہ جو قریب ہونے کی لذت ہے یہ کوئی فرضی لذت نہیں ہے۔ہر نماز میں جہاں انسان اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے اس کے حضور اپنے آپ کو جھکاتا ہے تو کچھ لمحے اس کو ضرور ایسے نصیب ہو جاتے ہیں جب وہ محسوس کرتا ہے کہ ہاں میری یہ بات خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہوئی اور اس کا جواب جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لفظوں میں نہ بھی ملے تو انسان کے دل میں ایک خاص قسم کی تحریک کے ذریعے مل جاتا ہے، اس کا دل مرتعش ہو جاتا ہے،اس میں ہی جان پیدا ہو جاتی ہے اور پہلے کی نسبت اپنے آپ کو وہ امن میں محسوس کرتا ہے۔پس یہ وہ دوسرا پہلو ہے جو اپنے اندر کے انسان کی تلاش اور اس کی حقیقت اور جستجو کو پانے کی جدو جہد ہے اس سے