خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 305
خطبات طاہر جلد 16 305 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء آپ غافل رہیں گے تو آپ زندگی کے مقاصد سے غافل ہیں اور یہ دونوں باتیں تو بڑی ہیں یعنی قرآن کریم نے مال اور جان کو خدا کی راہ میں پیش کر دینے کی بنیادی تعلیم دی ہے یہ اس سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں لیکن ان سے نیچے بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ہمارے اندر ایسی حالت میں قائم رہتی ہیں کہ گمان بھی نہیں آتا کہ ہمیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔مالی قربانی کی طرف اگر آپ توجہ نہیں کرتے تو کوئی توجہ دلانے والے آتے رہتے ہیں۔کوئی دروازہ کھٹکھٹانے والا ہے، کوئی خط لکھنے والا سیکرٹری ہے وہ آپ کو یاد کرانے والے موجود ہیں لیکن بدخلقی ایک ایسا مضمون ہے جو روز مرہ کے معاملات میں انسان کو درپیش رہتا ہے اور اس کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ کتنا بڑا جرم ہے، کتنا بڑا گناہ ہے۔بدخلقی کے پہلو سے اب آپ دیکھ لیں تو بہ کے مضمون کو تو آپ کو سمجھ آئے گی کہ جب تک انسان کا خلق اچھا نہیں ہوتا وہ باخدا انسان بن ہی نہیں سکتا۔یہ وہم ہے کہ ایک انسان چندہ دینے والا ہو ، عبادت کرنے والا ہو اور باخدا ہونے کے باوجود بداخلاق بھی ہو۔یہ دو باتیں ایسی ہیں جو ا کٹھی نہیں ہو سکتیں۔اخلاق کا تعلق بنی نوع انسان کے حقوق کی ادائیگی سے ہے۔اخلاق کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ اپنے باپ ، اپنی ماں ، اپنے بہن بھائی ، اپنے بچوں، اپنے عزیزوں، اپنے اقارب، ملنے جلنے والوں سب سے اس طرح حسن سلوک کریں کہ آپ کی ملاقات، آپ کا تعلق ان کے لئے خوشی کا موجب بنے، کسی نفرت کا موجب نہ بنے اور آپ سے پوری طرح وہ امن کی حالت میں رہیں۔بچے اخلاق کی یہی تعریف ہے۔کسی کو یہ خطرہ نہ ہو کہ یہ میرے سے جو تعلق رکھ رہا ہے تو اس کی نیت میری کسی ملکیت پر ہے، میرے کسی مال پر ہے، میرے بعض حقوق پر ہے، میرے بعض رشتہ داروں پر ہے۔اگر ایسی نیت اور یہ فساد تعلقات میں داخل ہو جائے تو یہ تعلقات اخلاق نہیں کہلائیں گے۔یہ بدخلقی کی بدترین قسم بن جاتی ہے۔یعنی اچھی بات کر کے، پیار اور محبت جتا کر بعض دفعہ بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے مالی معاہدات کرتے ہیں اور جب تک وہ معاہدات ہو نہیں جاتے ان کے اخلاق دیکھنے والے دکھائی دیتے ہیں۔ہر بات میں ان کا ادب، ہر چیز میں لحاظ بلکہ اس بات پر بار بار خوشی کا اظہار کہ کبھی خدمت کا موقع دیں، ہمارے گھر تشریف لے آئیں۔بیوی بچے فدا ہوتے ہیں، یہ صاحب آئے ہیں جن کے ساتھ مالی معاہدہ ہونے والا ہے اور ہر طرح سے ان کی ہر ضرورت کا خیال