خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 296
خطبات طاہر جلد 16 296 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء خلفاء کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور ساری امت کی زندگی ان اتفاقات پر قربان نہیں کی جاسکتی۔پس امت کی زندگی کی ضمانت کسی خلیفہ کی ذاتی صلاحیت نہیں ہے۔اس خلیفہ کا یہ عہد بیعت ہے جو حضرت محمدرسول اللہ ﷺ سے وہ کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت کے ذریعے اس عہد کو اس نے دہرایا ہے وہ امین بن جاتا ہے اور جو اس کی کمزوریاں ہیں وہ اللہ کے سپر دکرتے ہوئے امانت کا حق محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت کے معاملے میں ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس بیعت محمد ہی کی ہے اور کوئی بیعت نہیں ہے۔اس بیعت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کی ساری بدیاں دور ہوگی اور آپ کو وہ توبۃ النصوح کی توفیق ملے گی جو آپ کے سارے گناہ ختم کردے گی اور آپ کی ہر بدی کو حسن میں تبدیل کرنے کا ایک لازوال سلسلہ شروع کر دے گی۔فرماتے ہیں: بیعت رسمی فائدہ نہیں دیتی ، ایسے بیعت سے حصہ دار ہونا مشکل وو ہوتا ہے۔اسی وقت حصہ دار ہو گا جب اپنے وجود کو ترک کر کے بالکل محبت اور اخلاص کے ساتھ اس کے ساتھ ہو جاوے۔منافق آنحضرت ﷺ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے آخر بے ایمان رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذہن میں بھی محمد رسول اللہ اللہ کی بیعت ہی ہے چنانچہ مثال بھی آپ ہی کی دی۔منافق آنحضرت ﷺ کی بیعت تو کر چکے تھے مگر وہ تعلق نہ پیدا ہوا جو نئے شگوفے کے ساتھ ہونا چاہئے جس پر انسان اپنے آئندہ کے درخت وجود کا صح نظر بنا لیتا ہے۔اس شگوفے سے جو تاثیریں پھوٹیں وہ پیش نظر ہوں تو تب بیعت قبول ہوتی ہے۔تو فرمایا منافق اس شگوفے کی صلاحیتوں سے، اس کی صفات سے تو تعلق رکھتے نہیں تھے ہاں ہاتھ بیعت کے لئے ایک اور ہاتھ میں تھما دیا اس سے زیادہ ان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔فرمایا: اس لیے ظاہری لا إلهَ إِلَّا الله ان کے کام نہ آیا۔تو ان تعلقات کو بڑھانا بڑا ضروری امر ہے۔اگر ان تعلقات کو وہ (طالب ) نہیں بڑھاتا اور کوشش نہیں کرتا تو اس کاشکوہ اور افسوس بے فائدہ ہے۔محبت اور اخلاص کا تعلق بڑھانا چاہئے۔جہاں تک ممکن ہو اس انسان (مرشد ) کے ہم رنگ ہو۔طریقوں میں اور اعتقاد میں نفس لمبی عمر کے وعدے دیتا ہے۔یہ دھوکہ ہے۔عمر کا اعتبار نہیں