خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 297

خطبات طاہر جلد 16 297 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء ہے جلدی راستبازی اور عبادت کی طرف جھکنا چاہئے اور صبح سے لے کر شام تک حساب کرنا چاہئے“۔(ملفوظات جلد 1 صفحہ 4،3) یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر میں بیان کر چکا ہوں جو میں نے پڑھی تھیں کہ انسان کے متعلق ایک ایسی تنبیہہ ہے جو اسے یاد نہ رہے تو اس کا کوئی وقت بھی سچی توبہ کا وقت نہیں ہو سکتا۔اللہ سَرِيعُ الْحِسَابِ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ حساب لے گا تو اچانک تم اپنے عمل کے دور کو ختم ہوتا دیکھو گے۔ایک یہ معنی بھی ہے یعنی امتحان کب آئے گا، یعنی کب ختم ہو گا اور عمل کا دور کب اختتام پذیر ہوگا اور جزاء کا دور شروع ہوگا اس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔اس لئے اپنا حساب ساتھ ساتھ کرو۔بنے کی طرح دن کے ختم ہونے کا انتظار نہ کرو کیونکہ دن کا ختم ہونا تمہارے قبضہ قدرت میں نہیں ہے۔تمہاری زندگی کسی لحہ بھی مٹ سکتی ہے اور ہر لمحے اپنا حساب کرو اور دیکھو کہ اگر آج جان جائے تو سَرِيعُ الْحِسَابِ کے سامنے تم کیسے پیش ہو گے۔کیونکہ تمہاری موت کا لمحہ ہی تمہارے حساب کا لمحہ بنا چاہئے اور یہ ایسا عظیم الشان مضمون جو ہمیشہ دن رات ، زندگی کے ہر لمحے میں انسان کو اپنے نفس کا محاسب بنا دیتا ہے، انسان اپنے نفس کا محتسب ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے نفس کا محتسب نہ ہو وہ حمقاء کی جنت میں بستا ہے۔اگر وہ یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے احتساب پر مامور فرمادے گا۔اپنے نفس کا احتساب اس طرح سیکھیں۔پل پل، لمحہ لمحہ اپنے محتسب بن جائیں اور پھر اپنے اندر نئے حسن پیدا کرنے کی کوشش کریں۔آپ وہ قوم ہوں گے خدا کی نظر میں جن کے سپر د دنیا کا حساب کیا جائے گا۔یہی وہ صفت ہے جو انبیاء کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔اس لئے ساری ان قوموں کا حساب ان کے انبیاء کے سپرد کر دیا گیا ہے جو ان کے مطاع بنائے گئے۔پس آپ نے تمام بنی نوع انسان کا محتسب بنا ہے تو اس سے پہلے اپنے نفس کا احتساب سیکھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے اس کی توفیق عطا فرمائے۔یہ وہ سلسلہ ہے ہمیشہ جاری رہنے والا ترقی کا جو بھی اختتام پذیر نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان لا متناہی ترقیات سے ہمیشہ نواز تار ہے۔آمین