خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد 16 295 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء صلى الله ہاتھ کی۔اسی لئے يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ (الفتح (11) کا مضمون بیان فرمایا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ جو مومنوں پر تھا وہ گو یا ایسا ہاتھ تھاکہ اللہ کا ہاتھ ہو جوان پر غالب ہے تو اللہ کی صفات غالب آیا کرتی ہیں اور وہی رنگ وہ ہاتھ قبول کر لیتا ہے جو نیچے ہے۔پس یہ مضمون ہے جو بیعت کا مضمون ہے۔اس تعلق میں جماعت احمدیہ کو یادرکھنا چاہئے کہ اصل بیعت وہی ہے جومحمد رسول اللہ ہے کی بیعت ہے اور ہر بیعت کے وقت اسی بیعت کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں بھی وہی بیعت زندہ ہوئی تھی نہ کہ کوئی نئی بیعت۔پس خلافت بھی اسی رسول کے تابع ہے جس نے آگے پھر مسیح موعود کو پیدا فرمایا اور سیح موعود نے جو خلافت جاری کی وہ پھر غلامی در غلامی کا دم بھرنے والی خلافت ہے اور اس سے بیعت کر کے اس کے وجود کی اگر کوئی خوبیاں ہوں تو وہ سرایت کریں گی مگر اس میں جو خوبیاں نہیں بھی ہیں مگر چونکہ وہ ایک منصب کی وجہ سے محمد رسول اللہ ﷺ سے تعلق رکھتا ہے اس لئے آپ کے ذہن میں آنحضرت ﷺ کی خوبیاں رہنی چاہئیں نہ کہ اس وجود کی تا کہ آپ کا دل محمد سے بیعت کر رہا ہو اور یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھولا ہے۔” خلیفہ کی طاعت محمد سے بیعت کا جو شعر آپ نے سنا ہوا ہے وہ یہ مضمون ہے اصل میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی عارفانہ کلام پر مبنی ہے کہ اطاعت خلیفہ کا وعدہ کیا جا رہا ہے مگر بیعت محمد کی ہے اور وہی بیعت ہے جو سب برکتوں والی ہے۔اس بیعت کو پیش نظر رکھ کر جب آپ تو بہ اور بیعت کے مضمون کو جوڑ کر پڑھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عبارت کو از سر نو پڑھتے ہیں جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے تو دیکھیں کتنا عظیم الشان ایک زندگی کا سر چشمہ جاری ہو جاتا ہے فرماتے ہیں: تو جیسے درخت میں پیوند لگانے سے خاصیت بدل جاتی ہے اسی طرح سے اس پیوند سے بھی اس میں وہ فیوض اور انوار آنے لگتے ہیں (جواس تبدیلی یافتہ انسان میں ہوتے ہیں )۔یعنی اس موقع پر حضرت اقدس محمد مصطفی اہلیہ کے انوار ہیں جو ہر خلیفہ وقت کی بیعت کے وقت لازما پیش نظر رہنے چاہئیں۔ورنہ خلفاء کے معیار بدلتے رہتے ہیں، خلفاء کے حالات بدلتے رہتے ہیں،