خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 294 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 294

خطبات طاہر جلد 16 294 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997 ء کہ وہ جڑیں جو تمہیں خون پہنچارہی تھیں جو تمہیں بعض طاقتیں بخش رہی تھیں ان سے تم کٹ کر الگ ہو گئے۔تو پھر تمہارا وجود کیسے زندہ رہے گا۔کسی اور سے وابستہ ہونا پڑے گا اور اس پانی سے تمہاری نشو ونما ہوگی اور یہ مضمون پیوند کا مضمون ہے۔ایک شاخ ایک جگہ سے کاٹی گئی اور ایک دوسری جگہ منتقل ہوئی اور جب منتقل ہوئی تو اسے پودے، جس میں وہ منتقل ہوئی ہے، اس کی کیفیت بدل دی ہے۔اب اس مضمون کو بعینہ سو فیصدی تو اس جگہ بیان نہیں کیا جاسکتا کہ یہ مثال لفظاً لفظاً پوری کی پوری صادق آئے گی مگر جو صادق آتی ہے وہ حصہ میں آپ کے سامنے کھولتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں کہ : جب ایک شاخ ایک درخت سے کٹ کے کسی ایسے درخت کے او پر منتقل کی جاتی ہے جس میں وہ خوبیاں نہیں جو اس درخت میں تھیں جس کی شاخ ہے تو بظاہر منتقل ہوا ہے ایک اور وجود لیکن فرمایا کہ تم دراصل وہ ہو جو اپنے آپ کو اس شاخ کے حضور پیش کرتے ہو اور جب تم اپنے آپ کو اس شاخ کے حضور پیش کرتے ہو تو تمہاری تمام طبعی حالتیں اس Bud ، جو بھی پھولنے اور پھلنے کا ایک پیج اس کے اندر موجود ہوتا ہے شگوفہ، اس شگوفے میں اپنی تمام صلاحیتیں اس کے سپر د کر دیتے ہو اور پھر جب وہ شگوفہ پھوٹتا ہے تو تمہاری پرانی صلاحیتوں کے ساتھ نہیں پھوٹتا، تمہاری صلاحیت کو اپنا رنگ دے دیتا ہے اور ایک نیا پھل اس میں لگ جاتا ہے۔تو اس پہلو سے ایک بہت ہی اعلیٰ اور پیاری مثال ہے جو بیعت کی حکمت اور اس کے فلسفے کو روشن فرماتی ہے۔فرمایا: ” جب مثلاً آنحضرت میر کی صحابہ نے بیعت کی تو کیا مقصد تھا۔وہ یہ تھا کہ جس ہاتھ پر ہاتھ ہے اب یہ غالب ہاتھ ہماری نشو و نما کا موجب بنے گا، ہماری ساری صلاحیتیں اس کے تابع ہو گئیں۔“ جب تک اس ہاتھ سے الگ رہ کر ہماری صلاحیتیں نشو ونما پا رہی تھیں وہ کڑوے، گندے، کیلے پھل لا رہی تھیں۔اب ہم نے اس ہاتھ کے سپر د اپنا ہاتھ کر دیا یعنی ہماری تمام تر صلاحیتیں اس کے تابع ہو گئیں اور اب نشو ونما جو چیز پائے گی وہ اس ہاتھ کی صلاحیتیں نشو ونما پاگئیں نہ کہ ہمارے