خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 293

خطبات طاہر جلد 16 293 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء اور تو بہ کی طرف رجوع نہیں کرتے آخر وہ انبیاء اور ان کی تاثیرات کے منکر ہو جاتے ہیں“۔( ملفوظات جلد نمبر 1، صفحہ : 3) فرمایا گناہوں میں ڈوبے ہوئے اگر آپ لوگ تو بہ کی طرف رجوع نہیں کرتے اور دعا کی قبولیت سے مایوس رہتے ہیں تو ایسے لوگ وہ ہیں جو بالآخر انبیاء اور ان کی تاثیرات کے منکر ہو جاتے ہیں۔یہ کیوں فرمایا کہ انبیاء کی تاثیرات کے منکر ہو جاتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ یہ انبیاء کی دعائیں ہی ہیں جو ماحول اور گردو پیش کو بھی بدیوں سے پاک کرتی ہیں۔اگر یہ دعائیں نہ ہوں تو از خود اس قوم میں اصلاح کرنے کی صلاحیت تو تھی ہی نہیں ، ہوتی تو پہلے خود کیوں نہ اصلاح پذیر ہو چکی ہوتی۔وہ تو میں صدیوں سے بگڑیں اور بگڑتی چلی گئیں یہاں تک کہ ان کی بدیاں پختہ ہوگئیں ان میں بھلا کہاں صلاحیت ہے۔ان کی تو دعا کی طرف بھی توجہ نہیں تھی۔ان میں جو انقلاب بر پا ہوا ہے یہ انبیاء کی دعاؤں کی تاثیرات کا ثبوت ہے۔تو ایک شخص اگر اپنی ذات میں بھی دعا کے اثر کا منکر ہو بیٹھے لازم ہے کہ بالآخر وہ نبیوں کی پاکیزگی اور ان کی صلاحیتوں کا بھی انکار کر بیٹھے گا اور انبیاء سے بھی اس کا ایمان اٹھ جائے گا اور یہی ہوتا ہے۔جو شخص اپنے تعلق میں دعا کے ذریعے نجات پانے کا قائل نہیں رہتا وہ دراصل نجات کا ہی منکر ہو بیٹھتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ دور ہٹ جاتا ہے۔عبادت سے بھی گیا، نیکیوں سے بھی گیا پھر بدیاں اس پر دوبارہ قبضہ کر لیتی ہیں گویا اس کی زندگی رفتہ رفتہ اس کے بدن کو چھوڑ دیتی ہے اور مردار خور جانور یعنی بدیاں اس پر قبضہ کر لیتے ہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو بہ کے تعلق میں بیعت کے مضمون پر روشنی ڈالتے ہیں۔فرماتے ہیں: یہ تو بہ کی حقیقت ہے (جو اوپر بیان ہوئی ہے ) اور یہ بیعت کی بُجو کیوں ہے؟ تو بات یہ ہے کہ انسان غفلت میں پڑا ہوا ہے۔جب وہ بیعت کرتا ہے اور ایسے ہاتھ پر جسے اللہ تعالیٰ نے وہ تبدیلی بخشی ہو تو جیسے درخت میں پیوند لگانے سے خاصیت بدل جاتی ہے اسی طرح سے اس پیوند سے بھی اس میں وہ فیوض اور انوار آنے لگتے ہیں ( جو اس تبدیلی یافتہ انسان میں ہوتے ہیں)۔فرمایا تو بہ پرانی زندگی سے یا پرانی بد عادتوں سے قطع تعلقی کا نام ہے۔جس کا مطلب ہے