خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 273
خطبات طاہر جلد 16 273 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء امَنُوْا وَعَمِلُوا الصّلِحت کی شرط ہے۔ایمان سچا ہو اور نیک اعمال رونما ہونے لگیں ان سے کیونکہ خالی تو بہ کی کوئی بھی حقیقت نہیں اگر بدیوں کے بدلے نیک اعمال نہ لے لیں۔پس یہ ایک اور مضمون ہے جو اس آیت نے ہمیں سکھا دیا کہ محض استغفار کے اندر ایک منفی پہلو نہیں ہے کہ زہر سے بچو۔بیچنے کے بعد زندگی میں کچھ مثبت کیفیت پیدا ہونی چاہئیں جو تمہاری زندگی کی صلاحیتوں کو پہلے سے بڑھا دیں اور یہی مضمون ہے جو میں پہلے شروع میں بیان کر چکا ہوں۔اس آیت کریمہ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔فرمایا امَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فضله - قبولیت تو بہ اور عفو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے اس کے نتیجے میں صرف دعا کا نشان نہیں ملتا بلکہ ہمیشہ کی ترقیات کا نشان ملتا ہے اور دعا کی مقبولیت کا ایک ایسا نشان ملتا ہے کہ جو کچھ مانگا گیا اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔آپ اپنے تصور کے مطابق جو کچھ مانگ بیٹھتے ہیں وہ مانگ لیں اس سے بہت زیادہ خدا عطا کرتا ہے۔پر وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِہ میں استجابت کے بعد کا مضمون ہے کہ ان کی دعائیں صرف اس حد تک قبول نہیں ہوتیں کہ جو مانگا وہ مل گیا بلکہ جو نہیں مانگا وہ بھی ملنا شروع ہو جاتا ہے اور بہت بڑھا بڑھا کر اللہ اپنا فضل کیا کرتا ہے۔اس کی مثال بار ہا میں نے بیان کی ہے لیکن ابھی بھی کروں گا اس لئے کہ اس کا مزہ بھی ختم نہیں ہوتا۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے جب آپ بے سہارا، بے یارو مددگار مدین کی بستی میں ایک مقام پر بیٹھے ہوئے تھے۔دوخواتین آئیں بچیاں ، وہ ریوڑ کو پانی پلانے کے لئے لیکن مردوں میں ان کو جگہ نہیں ملتی تھی، انتظار کر رہی تھیں۔حضرت موسی نے ان کی مدد کی پھر واپس درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور یہ دعا کی رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير (القصص: 25) اے میرے رب جو بھی تو اس فقیر کی جھولی میں ڈال دے میں اسی کا محتاج ہوں اور اس وقت آپ کے ذہن میں نبوت کا تصور بھی نہیں تھا۔لازما نہیں تھا کیونکہ جب نبوت ملی تو دل دہل گیا اور منتیں کرنے لگے کہ اے خدا مجھے نہ نبوت بخش۔یہ ایک ہی نبی ہے جس نے اس شدت کے ساتھ نبوت کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔ساری انبیاء کی تاریخ پڑھ لیں آپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا کہ اے اللہ مجھے نہ بنا میرے بھائی کو بنادے۔اللہ تعالیٰ نے کہا میں نے تجھے تو بنانا ہی بنانا ہے وہ مجھے سے تو مانگ بیٹھا ہے جس کے بعد مجھے اس مضمون میں سب کچھ تجھے عطا کرنا ہے۔