خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد 16 274 خطبہ جمعہ 11 راپریل 1997ء رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ جب مجھ پر چھوڑ دیا ہے میں کیا دوں تو میں صرف تیری وقتی طور پر بھوک اور سر چھپانے کی جگہ کی ضرورتیں پوری کیوں کروں۔شادی بھی ہوگئی لیکن جب مجھ پر چھوڑا ہے کہ میں کیا کیا دوں تو پھر میں تو بہت کچھ دوں گا۔اب تیرا سوال ختم اور وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ والا مضمون شروع ہو گیا ہے۔اب میں بڑھاؤں گا اور ضرور بڑھاؤں گا۔پس یہ وہ سفر ہے جو کیسا خوبصورت، کیسا دلکش سفر ہے۔ایک ایک لمحہ اللہ کے سہارے چلتا ہے۔کوئی گناہ نہیں ہے جس سے انسان کو نجات مل سکے اگر سچا استغفار نہ ہو اور توبہ کی کچی نیت نہ ہو اور جب یہ ہوتا ہے تو پھر اور مزید گناہوں سے بچنے کی توفیق ملتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ توبہ کی قبولیت کا اعلان فرماتا ہے کہ اے بندے تیری توبہ قبول ہے۔جب قبول فرما لیتا ہے تو پھر وہ دوسرا حصہ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَاتِ شروع ہو جاتا ہے۔ساری جھاڑ پونچھ گھر کی شروع ہو جاتی ہے۔کمزوریاں یہاں کی ، وہاں کی وہ بھی ساری مٹنے لگتی ہیں تو انسان کا دل کلیتہ پاک وصاف ہو کر خدا کی آماجگاہ بننے کی اہلیت حاصل کر لیتا ہے پھر ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نشانات عطا فرماتا ہے، قرب کے نشانات عطا فرماتا ہے اور وہ نشان دنیا د یکھن لگتی ہے اور ان کو دکھائی دیتا ہے۔پھر خدا کے فضل یہاں ٹھہرتے نہیں بلکہ ان کو وہ ترقیات ملتی ہیں جن کا ان کو گمان بھی نہیں تھا جن کو انہوں نے مانگا ہی نہیں تھا اور اتنے پیارے سفر میں جو گناہ کے تریاق کا مضمون ہے ہرگز یہ مراد نہیں کہ خدا کو گناہ کا اتنا شوق ہے کہ اگر کوئی گناہ سے پاک ہو جائے تو گناہ کروانے کی خاطر اور پیدا فرمائے۔گناہ سے بچتے ہوؤں کو دیکھنے کا شوق ہے۔بڑے بڑے خطرناک مقام پر قدم رکھنے والوں کو دیکھنے کا شوق ہے جو نیچے دیکھتے ہیں اور ان کے دل نہیں دہلتے ، دہلتے ہیں تو خدا کی پناہ میں آتے ہیں اور اس سے سہارے مانگتے ہوئے اپنی بلندیوں کا سفر ختم نہیں کرتے اور آگے بڑھاتے ہیں اور کامل یقین رکھتے ہیں کہ جس ہاتھ میں ہم نے ہاتھ دے دیا ہے وہ ہمیں چھوڑے گا نہیں۔یہ وہ سفر ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ پھر آپ کو بلانے کے لئے تشریف لائے اور یہ سفر کر کے دکھا دیا۔اپنے صحابہ کی کیفیات بدل کے دکھا دیں۔ادنی ادنیٰ معمولی معمولی انسانوں پر ہاتھ ڈالا اور انہیں کچھ سے کچھ بنا دیا۔منشی اروڑے خان کی بات ہی میں کر رہا تھا۔وہ اپنی زندگی کی مثال بتایا کرتے تھے۔کہتے تھے میں تو ایک معمولی سا دھوبی تھا۔نہ کوئی تعلیم ،