خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 272

خطبات طاہر جلد 16 272 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (يونس : 63) خبر دار یہ خدا کے ولی لوگ ہیں ان کو کوئی حزن نہیں لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمُ ان کے خلاف کوئی بھی خوف اثر نہیں دکھاتا۔خوف پیدا ہوتے تم دیکھتے ہو تم ڈرتے ہوگے خوف سے۔ان کو تو ایک ذرہ بھر بھی کسی خوف کی پرواہ نہیں رہتی۔پس آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کس نے خوفوں میں سے گزرتے ہوئے زندگی بسر کی ہے۔ایک ایک قدم مقام خوف تھا جہاں دشمن جو بے انتہا طاقتور تھا آپ کو ہر قدم مٹا دینے کے منصوبے بناتا تھا۔مگر ایسا بےخوف سفر ہے کہ کوڑی کی بھی اس کی پرواہ نہیں کی۔جب آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کو ڈرانا تو نہیں کہنا چاہئے مگر مرعوب کرنے کی کوشش کی۔دیکھیں کس بہادری سے، کس یقین کامل کے ساتھ جواب دیا کہ چچا میں آپ کی قدر کرتا ہوں، آپ کا احسان ہے، آپ نے مجھ پر اپنی شفقت کا سایہ رکھا ہے مگر یہ نہ وہم کریں کہ آپ بچا رہے ہیں۔ایک کوڑی کا بھی مجھے وہم نہیں کہ آپ مجھے بچانے والے ہیں۔میرا بچانے والا میرا خدا ہے اس لئے اپنی پناہیں کھینچ لیں ، اپنی چار دیواری سے مجھے باہر نکال دیں، مجھے کوڑی کی بھی اس بات کی پرواہ نہیں ہے۔میرا خدا ہے جو مجھے بچاتا رہا ہے اور میرا خدا ہے جو آئندہ بھی مجھے بچائے گا۔تو لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ کا تو یہ مطلب ہے ہی نہیں کہ خوف پیدا نہیں ہوتا۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمُ کا مطلب یہ ہے کثرت سے خوف پیدا ہوتے ہیں لیکن وہ خوف ان کی ذات کو مرعوب نہیں کر سکتے ، بالکل بے اثر اور بے معنی اور بے حقیقت دکھائی دیتے ہیں۔پس خوفوں میں سے گزرنا اور ان خوفوں کو تمکنت میں تبدیل کر دینا، امن کی حالت میں بدل دینا یہ انبیاء کی شان ہے جو بعد میں ان سلسلوں میں جاری رہتی ہے پھر اور انہی کا فیض ہے جو خلافت میں یا مجددیت میں یا ولایت میں یا دوسری چیزوں میں آگے پھر آپ کو جاری و ساری دکھائی دیتا ہے اور یہ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ کا مضمون انہی کے حق میں پورا ہوتا ہے جو ان صفات سے مزین ہوں جن کا ان آیات میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ خدا کے خالص بندے ہو جاتے ہیں، بچی تو بہ کرتے ہیں، اس کی طرف جھکتے ہیں، اس کی طرف تمام تر تو جہات کے ساتھ مائل ہوتے ہیں۔وہ اس سے مانگنا شروع کرتے ہیں اور اس پر بناء کرتے ہیں اور پھر ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان کو نئے نشان عطا کئے جاتے ہیں۔