خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 264

خطبات طاہر جلد 16 264 خطبہ جمعہ 11 راپریل 1997ء بعض تحریر میں ایسی ہیں جن کو بہت گہرے غور سے دیکھنا پڑتا ہے اور اس یقین کے ساتھ دیکھنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔اگر تضاد نہیں ہے تو جو تضاد دکھائی دیتا ہے وہ دور ہونا چاہئے اور تضاد زبردستی دور نہیں ہوا کرتا، جھوٹ سے تضاد کو دور نہیں کیا جاسکتا۔آنکھیں بند کر کے خطرے کو ٹالا نہیں جا سکتا اس لئے سچائی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں ڈو میں اور اس سے قطع نظر کہ آپ پر حل ہوئی ہیں کہ نہیں سچائی کا دامن نہ چھوڑیں۔جب سچائی کے ساتھ ، اس کی روشنی کے ساتھ آپ تلاش کریں گے تو آپ کو حضرت مسیح موعود یہ السلام کی تحریرات ہی میں ان کے جوابات بھی مل جائیں گے اور اگر ز بر دستی یا اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں میری گستاخی نہ ہو گئی ہو اپنے وہم ، اپنے خیال، اپنے سوال پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں گے تو یہ استغفار نہیں ہے یہ اندھیرا ہے اور گناہ کا اندھیرا ہے۔پس اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں جہاں عظیم مضامین بیان ہوئے ہیں وہاں ساتھ ساتھ خطرات بھی لاحق ہیں اور ان خطرات سے بیچ کر قدم رکھنا یہ سب سے اہم بات ہے اور اسی کے نتیجے میں اعلیٰ ترقیات نصیب ہوتی ہیں۔اب ایک سوال اور اٹھتا ہے کہ گناہ کو پیدا کر کے ماحصل کیا ہے اس کا۔اگر گناہ سے بچ جانا تکبر ہے، جیسا کہ میں نے بیان کیا یہ تکبر نہیں ہے، گناہ سے اللہ کے سہارے بچنا اور اپنے اوپر انحصار نہ کرنا، خدا کی رحمت پر انحصار کرنا گناہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس فائدے کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تریاق کے مضمون میں بیان فرمایا ہے۔جب انسان گناہ کی حقیقت سے واقف ہو جائے اور گناہ کے مادے کو اتنا پیس ڈالے کہ لازماًوہ اپنے بداثر سے انسان کو مجروح نہ کر سکے کلیہ اس کے نقصان کی صفات مٹ چکی ہوں اس صورت میں انسان کے اندر ترقی کی راہیں کھلتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کی راہیں کھلتی ہیں ، اگر اس کا تریاق بنانا اللہ کے فضل اور اس کے سہارے اور اس کی دعاؤں کے نتیجے میں ہور نہ نہیں کھلیں گی۔اگر انسان یہ کہے کہ میں نے اپنے گناہ کو پیس ڈالا ہے تو اس کو ترقی کی کون سی راہ نصیب ہوگی وہ تو بالآخر شیطان بن کر اپنی عمر ضائع کرے گا لیکن اگر گناہ پر غلبہ ہمیشہ ذہن میں یہ خیال ڈالے کہ میرے خدا نے توفیق دی، قدم قدم لمحہ لحہ اس کے سہارے میں گناہ سے بچا ہوں تو یہ وہ نبی معصوم