خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 263
خطبات طاہر جلد 16 263 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء نے گناہ کے امکانات کو کھلا رکھا، احتمالات کو کھلا رکھا تا کہ انسان اس سے بچے اور ترقی کرے، اگر ترقی کرے اور معصوم ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں تو کلمی معصومیت جو ہے وہ پھر کبر پیدا کر دیتی ہے تو پھر انبیاء میں کیوں نہ ہوا، وہ کیوں تکبر سے بچ گئے۔یہاں استغفار ہے جو اپنا عمل دکھاتا ہے صلى الله جس کی صحیح تفسیر سمجھنے کے نتیجے میں پھر یہ سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔آنحضرت می یہ سب سے زیادہ استغفار کرتے تھے اور یہی بات ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عبارت کو اپنے درجہ کمال تک پہنچا دیا، فرمایا: جب نبی معصوم ستر بار استغفار کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔اب معصومیت کو تکبر سے بچانے کے لئے استغفارلازم ہے اور استغفار گناہوں کے احتمالات سے بچنے کے لئے خدا کی مدد مانگنا ہے۔پس معصومیت وہ تکبر بنتی ہے جس میں انسان اپنے وجود پر انحصار کرتے ہوئے اپنی نیکیوں کی وجہ سے گناہوں سے بچنے کا وہم دل میں لاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دیکھو میں نے تو مقابلہ کیا میں تو فلاں ابتلاء میں پڑا اور صاف سلامت نکل آیا ، یہ وہ تکبر ہے جس کے نتیجے میں گناہ نہ ہو تو ہلاکت کا موجب بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو اگر لطیف نظر سے نہ دیکھا جائے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو عطا ہوئی اور بار بار پڑھ کر ان میں غور کر کے ان کی حقیقت کو نہ پایا جائے تو کئی سوال جوحل ہوتے ہیں اپنے ساتھ اور سوال اٹھا دیتے ہیں جو نا قابل حل دکھائی دیتے ہیں۔پس معصومیت فی الحقیقت معصومیت اسی حد تک ہے جس حد تک استغفار کے سہارے قائم ہے جس حد تک انکسار اپنے ساتھ رکھتی ہے۔جہاں معصومیت میں بڑائی کا پہلو آ جائے اور اپنی خود پرستی کا مضمون داخل ہو جائے وہیں وہ معصومیت عظیم گناہ بن جاتی ہے بلکہ عام گناہوں سے بڑھ کر گناہ۔یہ تو وہ موازنہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا کہ گناہ نہ ہوتا تو تکبر ہوتا۔وہ چونکہ چند لفظوں میں بیان فرمایا ہے اس لئے پڑھنے والے کو سمجھ نہیں آتی بسا اوقات۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو میری تحریرات کو تین دفعہ نہیں پڑھتا غور سے، وہ متکبر ہے۔اب اس کو بھی لوگ صحیح نہیں سمجھ سکے۔ساری تحریرات کو لازماً تین دفعہ پڑھنا ہرگز مراد نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ میری تحریرات میں گہرے مضامین ہیں اگر انسان ایک نظر ڈال کر یہ سمجھ بیٹھے کہ اب مجھے حاجت نہیں رہی وہ تکبر ہے لیکن بسا اوقات تین دفعہ پڑھ کر چھوڑ دینا بھی تکبر بن جاتا ہے کیونکہ