خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 265

خطبات طاہر جلد 16 265 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء والی کیفیت ہے ستر بار استغفار والی۔آنحضرت میہ کا جو سلسل استغفار تھا اس استغفار کے ذریعے آپ بلندیوں میں سفر کرتے رہے اور وہ بلندیوں کا سفر ہمیشہ جاری رہا۔وہ اتنا عظیم بلندیوں کا سفر تھا کہ خاک شریا سے بھی آگے نکل گئی اور جہاں سب سے اعلیٰ مخلوق فرشتوں کی پر مارنے کی طاقت نہیں صلى الله تھی وہاں آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے رسائی بخشی اور اپنا وہ عرفان عطا کیا جو جبرائیل کو بھی نہیں تھا جو وحی لاتا ہے اور یہ سارا عرفان گناہ کے ردعمل میں اس کے خوف سے، اس سے بچنے کی کوشش سے استغفار کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے۔پس لحلحہ پھونک پھونک کر قدم رکھنا اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا یہ وہ ترقی کی راہیں ہیں جو گناہ سے پھوٹتی ہیں۔پس گناہ کا وجود اس کے کرنے کے لئے ضروری نہیں، اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے۔جب اللہ فرماتا ہے میں گناہ کو پیدا کرتا تو اس لئے نہیں کہ گناہ میں لوگ ملوث ہوں، اس لئے کہ گناہ سے بچنے کی کوشش انسان کو لامتناہی ترقیات عطا فرما دے۔اب اس فلسفے کو مزید سمجھنے کے لئے بیماری اور شفا کا مضمون ہے جو آپ پیش نظر رکھ سکتے ہیں۔بیماری خدا نے پیدا ہی کیوں کی جیسا کہ گناہ کے متعلق سوال اٹھتا ہے گناہ پیدا ہی کیوں کیا۔اگر بیماری پیدا ہی نہ ہوتی تو شفا کے لئے انسان کی کوشش کرنا اور اس کے بدن کا ارتقاء جو بیماریوں سے دوری کا سفر ہے یہ ممکن ہی نہیں تھا۔وہ زندگی کی شکل جو آغاز میں ایک ادنی معمولی ، ذلیل سے کیڑے کی حیثیت رکھتی ہے وہ مصیبتوں اور بیماریوں کی وجہ سے ترقی کی ہے۔اب آنکھ کی روشنی کیوں نصیب ہوئی۔آنکھ کی روشنی کا نہ ہونا ایک بیماری ہے جس کے نتیجے میں انسان دکھ میں مبتلا ہوتا ہے۔سو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں فکریں مارتا ہے ، اپنی غذا کا پتا نہیں کہاں پڑی ہوئی ہے، زہر پہ منہ مارلے گا ، غلط جگہوں پر قدم رکھے گا۔غرضیکہ بصارت حقیقت میں ایک شفا ہے اور اس کا فقدان بیماری ہے لیکن یہ بصارت بیماری کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے کیونکہ زندگی نے جب آنکھ کے بغیر سفر شروع کیا ہے تو لاکھوں، کروڑوں، اربوں ٹھوکریں کھائی ہیں اور ہر ٹھوکر کے نتیجے میں ایک شعور بیدار ہوا ہے، ایک ٹھوکر کے مقام کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے وہ صلاحیت کروڑ ہا سال میں ترقی کرتے کرتے اچانک آنکھ کی شکل میں رونما ہوئی اور یہ ایک ایسا سفر تھا جس کو خدا تعالیٰ نے باقاعدہ آرگنائزہ کیا ہے مگر تکلیف کا ازالہ کرنا صرف تکلیف سے بچنے کی صورت نہ بنی بلکہ ایک ایسی چیز عطا ہوگئی جو اس کی لامتناہی ترقیات کا ایک ذریعہ بن گئی۔