خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 262

خطبات طاہر جلد 16 262 خطبہ جمعہ 11 راپریل 1997ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں گویا کہ حدیث ہے جس کا تفصیلی حوالہ تو نہیں مگر مضمون رسول اللہ ﷺ کی طرف ہی منسوب ہوا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ مخلوق میں یہ دیکھتا کہ اس میں کوئی گناہ باقی نہیں رہا تو اس مخلوق کو مٹادیتا اور ایک اور مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرتی اور پھر گناہ اور توبہ کا سلسلہ از سرِ نو شروع ہو جاتا۔اب یہ جو سوال ہے یہ بہت ہی عجیب سا ہے اور بہت الجھنیں پیدا کرنے والا دکھائی دیتا ہے مگر جو بات میں اب بیان کر چکا ہوں اگر اس کی طرف واپس لوٹیں تو اس سوال کی بالکل صاف سمجھ آجاتی ہے کہ جواب کیا ہے۔فرشتے بھی تو وہی تھے جو گناہ نہیں کرتے تھے اور گناہ نہ کرنے کی وجہ ان کی گناہ کرنے کی صلاحیت کا فقدان تھا۔پس اگر انسان میں بھی ایسی حالت ہوتی کہ گویا وہ صلاحیت سے محروم ہو جاتا اور ہر طرف نیکی ہی نیکی دکھائی دیتی تو انسان اپنے پیدائش کے مقصد کو کھو دیتا اور اس کی پیدائش کا مقصد جو مسلسل ترقی دینا ہے وہ اسے حاصل نہ رہتا اس لئے اس کو مٹایا جاتا ورنہ گناہ دیکھنے کا شوق تو نہیں ہے اللہ تعالیٰ کو اور محض یہ سمجھ لینا کہ بخشش کے اظہار کی خاطر وہ گناہ کرواتا ہے یہ درست نہیں ہے۔اگر یہ درست ہے تو پھر بخشش کا وہ معنی درست نہیں جو عرف عام میں سمجھا جاتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بھی چھیڑا ہے اور بخشش کا صحیح معنی بیان فرمایا جس کے نتیجے میں یہ اعتراض اٹھ جاتا ہے۔تو یہ خلاصہ کلام ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس عبارت کا جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے یعنی عبارت مختصر لیکن اس کی مختصر تفصیل میں نے آپ کے سامنے کھولی ہے۔فرماتے ہیں اگر گناہ نہ ہوتا تو رعونت کا زہر انسان میں بڑھ جاتا۔رعونت کا زہر گناہ کی صلاحیت کی بناء پر پیدا ہوتا ہے نہ کہ اس کے بغیر۔اگر فرشتوں میں گناہ نہیں تھا اس کے باوجود رعونت نہیں ہوئی اس لئے کہ گناہ کی صلاحیت نہیں تھی۔پس فرمایا انسان کو فطرتا ایسا بنایا گیا ہے کہ اس میں گناہ کی صلاحیت رکھ دی گئی ہے۔پھر اگر وہ گناہ نہ کرتا اور کلیۂ پاک ہوتا تو اس میں رعونت کا زہر بڑھ جاتا۔اب ایک مقام صلى الله ایسا ہے جس کی طرف انسان کی نظر پھرتی ہے اور وہ مقام مصطفی ﷺ ہے اور درجہ بدرجہ دیگر انبیاء کا بھی یہ مقام ہے لیکن ان میں فرق ہے آپس میں لیکن بنیادی طور پر انبیاء کی معصومیت ان کو دوسروں سے الگ کرتی ہے تو پھر ان میں تکبر کیوں پیدا نہیں ہوتا ؟ اگر گناہ کی صلاحیت کے باوجود گناہ نہ کرنے کے نتیجے میں تکبر پیدا ہونا تھا اور اس لئے اللہ تعالیٰ