خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 233

خطبات طاہر جلد 16 233 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء تو ان لوگوں پر نرم ہو گیا اگر تو بد خو ہوتا بخت دل ہوتا تو تیرے اردگرد سے یہ چھوڑ کر تجھے چلے جاتے ، کیا نکالا جا رہا ہے فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرُهُمْ ایسے لوگوں سے عفو کا سلوک کر کیونکہ جو لوگ تیرے گردا کٹھے ہورہے ہیں اخلاق کی وجہ سے ان کو اس وجہ سے بھی کچھ خطرات ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر محض اخلاق کی خاطر نہ کہ اعلیٰ مقاصد کی خاطر کوئی شخص کسی کے گرد اکٹھا ہوتا ہے تو اس کی وفا کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔جہاں اس سے نظر بدلے وہ اس کو بد خلقی کا نام دے کر چھوڑ کر جاسکتا ہے اور ایسے لوگوں کی مثالیں ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے جب تک تو ان لوگوں پر احسان کرتا رہے یہ تیرے گرد رہتے ہیں جب احسان کرنا چھوڑ دے مال کے معاملے میں اپنے ان فرائض کو پورا کرے جو خدا نے تجھ پر ڈالے ہیں تو جہاں تجھ سے مالی فائدہ نہ دیکھیں یہ تجھے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں بلکہ بدتمیزی شروع کر دیتے ہیں۔اعتراض شروع کر دیتے ہیں تو یہ وہ خطرات ہیں جن کی وجہ سے فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ کا کم ہے۔فرمایا یہ لوگ تیرے اخلاق کے محتاج تو ضرور ہیں مگر جیسا تو ان کا محتاج نہیں ہے مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام بنایا ہے کہ ہر نبی کو مددگاروں کی ضرورت ہوتی ہے پس احتیاج اور بات ہے۔ہے اور ضرورت اور بات ہے۔احتیاج ان معنوں میں میں کہہ رہا ہوں کہ ان لوگوں پر بناء نہیں۔یہ نہ بھی ہوں تو خدا کے کام لازماً ہو کے رہیں گے ، جب وہ ارادہ فرما لیتا ہے تو وہ ہو کر رہتے ہیں مگر جو قانون قدرت اس نے پیدا کیا ہے اس میں انسانوں کو انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔تو اس کا ایک علاج یہ بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی قوموں کو بدل دیتا ہے اور یہ قرآن کریم بار بار بیان کر چکا ہے تو ان کے بدلے اور تجھے خدا دے گا جیسا کہ مرتدین کے حوالے سے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک مرند ہوتا ہے تجھے اور کثرت سے دے گا جو زیادہ نیک دل ہوں جو زیادہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کرنے والے ہوں ، تمہارا خیال کرنے والے، تمہاری قدر کرنے والے ہوں ایسے لوگوں کی جماعتیں عطا کر دے گا تمہیں۔پس یہ فرق ہے بناء اور ضرورت میں۔آنحضرت ﷺ کو بحیثیت بشر کے نصرت کی ضرورت تھی اور یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ بغیر کسی انسان کی مدد کے محض اس لئے کہ اللہ نے آپ کو مقرر فرمایا ہے اور کامیاب کرنا ہے از خود کامیاب ہو جاتے اگر یہ مضمون سمجھا جائے تو دنیا میں کسی نبی کو کسی کی ضرورت نہیں اور پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی