خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد 16 232 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء ہیں۔با اخلاق ہیں تو اس عہدے کے اوپر فائز ہونے کے اہل ہیں۔اگر اہل نہیں ہیں اور فائز ہو گئے ہیں تو آپ کے اوپر ایک وبال بن جائے گا یہ کیونکہ آپ اس کے حقوق ادا نہیں کر سکتے۔پس اس پہلو سے تمام عالم کے احمدیوں کو ایسا ہونا چاہئے کہ ان میں سے جس کو بھی مجلس شوری کے لئے منتخب کیا جائے وہ اہل ثابت ہوں۔ایک یا دو کی بحث نہ رہے کہ وہ ہوں گے تو نمائندگی ہوگی تمام احمدیت کا عالم ، تمام جہان مجلس شوری کی اہلیت رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے خدام سے اس طرح پر ہو جائے کہ جس کو بھی پکڑا جائے جس کو بھی دیکھا جائے وہ اہلیت والا ہو۔یہ جو مضمون ہے کہ اخلاق کے ساتھ اہلیت کا تعلق ہے اسی کے سمجھنے کے نتیجے میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہر شخص مشورہ دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔جب اللہ کسی کو پسند فرماتا ہے تو اہلیت کے سارے تقاضے پیش نظر رکھتا ہے، ان تقاضوں میں یہ جو چند اخلاق کی باتیں میں نے کی ہیں صرف یہی نہیں اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن میں سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیشہ خدا اس کے پیش نظر رہے ، وہی مقصود ہو ، اسی کو خوش کرنا اس کی زندگی کا اعلیٰ مقصد ہو جائے۔جب ایسا شخص ہو جو خدا کے تابع ہو، اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی کے تابع کر دے تو اس کی عقل چمکتی ہے اس میں جلاء پیدا ہوتی ہے۔اور یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ کوئی شخص جو خدا تعالیٰ کی کامل ذات کے حوالے سے اپنے آپ کو جھکا کر اس کے تابع نہیں ہوتا اس کی عقل میں لاز ما نقص رہ جاتا ہے کبھی وہ کوتاہ بین ہو جاتا ہے، وقتی تقاضوں کی خاطر اپنے دور کے مفادات کو قربان کر دیتا ہے کبھی وہ وقتی مفادات کی خاطر یا ملکی یا قومی ، اپنے خاندانی مفادات کی خاطر دوسرے مفادات کو قربان کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں فساد کا موجب بنتا ہے۔پس دوسرا اہم معاملہ جو بہت سے معاملات میں سے ایک اہم معاملہ ہے یہ ہے کہ اخلاق کا تعلق تو بنی نوع انسان سے ہے اس کا درست ہونا ضروری ہے اس کے بغیر کوئی انسان مشورے کی اہلیت نہیں رکھتا مگر دینی امور میں اور بھی تقاضے ہیں اور ان نقاضوں میں سب سے بڑا تقاضا تقویٰ کا ہے یعنی انسانوں سے بھی اپنے معاملات درست کرنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ سے بھی اپنے معاملات درست کرنے والا اور اس کا تو کل خدا پر ہو، بنی نوع انسان پر نہ ہو۔یہ سارے مضامین اس پہلی آیت میں بیان ہو گئے ہیں جو میں نے آپ کے سامنے ابھی پڑھی ہے فَمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمُ یہ اللہ کی رحمت ہی تجھ پر تھی جس کے نتیجے میں