خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 234
خطبات طاہر جلد 16 234 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء الله مَنْ أَنْصَارِى إِلَى الله (الصف : 15) کون ہے جو اللہ کے معاملے میں میرا مددگار ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے انصار کا قرآن کریم میں ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی کس طرح لوگ ان کی مدد کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں پس لفظ احتیاج جس کو میں نے بناء کے معنوں میں استعمال کیا ہے وہ اور بات ہے اور عام انسانی ضرورت اور بات ہے۔پس یا درکھیں کہ آنحضرت ﷺ کو کسی دوسرے فرد بشر کی اکیلی یا زیادہ کی ان معنوں میں احتیاج نہیں تھی کہ آپ کی بناء ان پر ہو وہ نہ ہوں تو آپ کے کام ختم ہو جائیں۔ہاں بحیثیت انسان مدد کی ضرورت تھی کیونکہ صرف اللہ ہے جس کو اپنی اعلیٰ قدرتوں اور طاقتوں میں کسی دوسرے کی ان معنوں میں مدد کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اس پر بناء کر بیٹھے۔پس اس کے باوجود اللہ بھی کچھ مدد مانگتا ہے اور یہ مضمون ہے جو خاص طور پر سمجھنے والا ہے کہ اللہ ہمیشہ اس وقت مدد مانگتا ہے جب نبیوں کو مدد دینی مقصود ہو ورنہ کبھی مدد نہ مانگتا۔نظام ایسا بنا دیا ہے کہ نبی اکیلے کام نہیں کر سکتے جو ان کے سپرد ہے اس لئے تمام بنی نوع انسان کو حکم دیتا ہے کہ ان کے گردا کٹھے ہو اور ان کی مدد کرو اور اسی کا نام اللہ کی مدد ہے۔پس اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ اللہ کہیں مدد بھی مانگتا ہے، اللہ محتاج نہیں ہے مگر نبیوں کی مدد کے لئے ہمیں متوجہ فرماتا ہے اور یہ بھی فرماتا ہے کہ اگر تم نہیں کرو گے تو خدا کو کوئی پرواہ نہیں اس کے کام نہیں رکیں گے، ایسی قومیں پیدا کر دے گا جو زیادہ محبت اور عشق اور فدائیت کے ساتھ میرے انبیاء کی مدد کریں گے اور یہ کام ہو کر رہیں گے پس جن کاموں نے ہونا ہی ہوتا ہے ان میں اگر کسی کو ملوث کیا جائے تو اس پر احسان ہوتا ہے نہ کہ برعکس۔جو کام چلنا ہی چلنا ہے اس میں اگر آپ کا بھی ہاتھ لگا دیا جائے تو آپ پر احسان ہے، آپ سمجھیں کہ ہاں ہمیں بھی توفیق ملی اور احسان بھی ایسا کہ ہاتھ لگایا ہے کام نے ہونا ہی تھا مگر پھر اتنے اس کے مقابل پر احسانات شروع ہو گئے کہ ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے گو یا اظہار تشکر ہو رہا ہے تم نے میرے نبی کی مدد کی اب ہم تمہاری نسلوں کی تقدیریں بدل دیں گے تمہارے مقدر جاگ اٹھیں گے اور نسلاً بعد نسل تم پر ہم تم احسان کرتے چلے جائیں گے۔تو یہ مدد در اصل بالآخر اپنی ہی مدد بنتی ہے مگر اس مدد لینے کی خاطر کبھی حسن سلوک نہیں کرنا، اس مدد لینے کی خاطر کبھی اپنی زبان کو نرم نہیں کرنا کیونکہ اگر جب مدد لینے کی خاطر کرو گے تو تو کل ان کی طرف ہو جائے گا ، خدا پر نہیں رہے گا۔یہ وہ مضمون ہے جو یہ آیات کھول