خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 164

خطبات طاہر جلد 16 164 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء رَبَّهُمْ مُّنِيْبِينَ إِلَيْهِ (الروم:34) کہ یہ جو اللہ کو بلانا اور منیب ہو جانا اس کا یہ ایسے وقت میں اگر نصیب ہو جبکہ تکلیف آپنے تو پھر یہ محض وقتی فائدہ دے گا۔اس وقت منیب بنو جب تکلیف نہ پہنچی ہو۔چنانچہ پہلی آیت کریمہ میں منیب کے ساتھ یہ کھول دیا گیا تھا کہ جب عذاب آجائے گا، جب پکڑے جاؤ گے پھر تمہیں کچھ بھی فائدہ نہیں دے گا خدا کی طرف جھکنا لیکن وہاں مراد ہے مستقل فائدہ تمہاری نجات کا موجب نہیں بن سکے گا ور نہ عذاب سے وقتی نجات ثابت ہے۔چنانچہ یہ آیت اسی مضمون کو بیان فرمارہی ہے وَإِذَا مَشَ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِينَ إِلَيْهِ جب انسان کو سخت عذاب پکڑ لیتا ہے بہت بڑی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے منِيبِينَ الیہ واقعہ دل سے اس کی طرف جھکنے اور اس کی طرف دوڑنے ، اس کی طرف لپکنے کے لئے ایک خواہش زور مارتی ہے۔مگر اس کی پناہ میں آنے ، اپنی ذات کو اس کے سپرد کرنے کے لئے نہیں۔اسلِموا والا مضمون نہیں ہے بلکہ عذاب سے بچنے کی حد تک بس اس سے زیادہ ان کی کوئی خواہش نہیں ہوتی۔ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَى مَا كَانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ (الزمر: 9) یہاں وہ جو طوفان کا مضمون بیان ہوا ہے ایک اور آیت میں کہ غرق ہونے لگتا ہے انسان اس کے لئے دعا کرتا ہے اس کو خدا بچا بھی لیتا ہے یہاں وہ مضمون نہیں ہے بلکہ وہ رزق والا مضمون جو میں نے بیان کیا تھا اس کے تعلق میں یہ آیت بیان کر رہی ہے۔ایسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے کہ اس کے مال ، جائیداد، چیزیں ضائع ہونی شروع ہو جائیں، نقصان پہنچیں تب وہ واقعہ اللہ کی طرف ایک جھکنے کا میلان اپنے دل میں پائے ، سمجھے کہ اس کے سوا چارہ کوئی نہیں۔مگر اگر اللہ کی محبت نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا محض مصیبتوں سے بچنے کی خاطر ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم اسے پھر نعمتیں عطا کرتے ہیں، ایسے شخص کو صرف مصیبت سے نجات نہیں دیتے نعمتیں بھی عطا کرتے ہیں وہ نعمتیں عطا کرتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ہماری طرف جھکا تھا نسی مَا كَانَ يَدْعُوا اِلَيْهِ وہ بھول جاتا ہے اس بات کو کہ اس نے وہ چیزیں خدا سے مانگی تھیں مَا كَانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ یہ بھول جاتا ہے کہ خدا سے مانگی تھیں۔اس طرز بیان میں یہ بات کھل گئی کہ نیت چیزوں کی تھی اور کچھ نہیں تھی جب چیزیں مل گئیں تو خدا بھول گیا اور یہ بھی بھول گیا کہ یہ چیزیں میں نے خدا سے مانگی ہوئی ہیں آپ ہی آپ نہیں مل گئیں مجھے۔تو یہ ایسی کامل فراموشی، اس قدر غفلت کہ مصیبت کے وقت گڑ گڑا، گڑ گڑا کے، روتے