خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 163
خطبات طاہر جلد 16 163 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء تو اس لئے اس بات کا سمجھنا ضروری ہے کہ لفظ منیب میں آسمانی نعمتیں اور دنیاوی نعمتیں دونوں کے بہت قطعی وعدے دیئے گئے ہیں اور اگر ہم اس مضمون کو نظر انداز کر دیں اور دنیا کے غلام بنیں تو پھر اللہ تعالیٰ دنیا بھی ہمارے پاس نہیں رہنے دے گا اور یہ بھی ایک ایسا سلسلہ ہے جو بارہا ان لوگوں میں دکھائی دیتا ہے جن کو خدا زندہ رکھنا چاہتا ہے یعنی خدا کے نیک بندوں کی اولا دوں میں اگر خدا ان کو روحانی طور پر زندہ رکھنا چاہے اور وہ دنیا کی طرف دوڑیں اور نیکی کو نظر انداز کریں تو ان کی دنیا بھی کلیۂ برباد کر دیتا ہے جب کہ بدوں کو نہیں کرتا جن کو آخرت میں سزا دینا مقصود ہو ان کو جو دنیا کی طرف دوڑیں دنیا کی نعمتیں عطا کر دیتا ہے اور بیان فرماتا ہے کہ ہم کرتے ہیں مگر اس لئے کہ آخرت میں نہیں دیں گے۔مگر نیک لوگوں کی اولاد سے خدا تعالیٰ کا یہ سلوک ہم نے بار ہادیکھا ہے کہ نیک لوگوں کی اولاد نیک رہے گی تو اللہ تعالیٰ بے حد رزق عطا فرما تا ر ہے گا۔جب بدی کی طرف جائے گی ، اتنا بدی کی طرف چلی جائے کہ ان میں زندگی کی رمق نہ رہے تو پھر وہ بھی بے حد و شمار دولت عطا کئے جاتے ہیں دنیا کے رہتے نعمتیں ، دولتیں۔مگر یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا ان سے ناراض ہو چکا ہے وہ مردود ٹھہرائے گئے ہیں لیکن جن کو بچانا چاہے ان پر بڑے بڑے ابتلاء آتے ہم نے دیکھے ہیں کچھ بھی بے چاروں کا نہیں رہتا آخر پھر وہ واپس آتے ہیں اور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے متعلق جو توقع رکھی تھی کہ ہم مارکھا کے واپس آجائیں گے وہ توقع کچی ثابت ہوئی۔تو بہت سے ایسے احمدی میں نے واپس آتے دیکھے ہیں جن پر ابتلاؤں کی مار پڑی ہے، بعض بیماریوں کی مار پڑتی ہے، بعض اولاد کی طرف سے ان پر مار پڑتی ہے اور تو بہ کرتے ہیں۔جن کو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا، نہ نام سنا تھا اور بعض دفعہ دور دور سے سفر کر کے آتے ہیں کہ ہم تو تو بہ کی خاطر آئے ہیں پتا چلا کہ مصیبتوں اور دکھوں نے ان کو تو بہ پہ مجبور کیا ہے۔پھر جب وہ اپنے ماں باپ کی باتیں سناتے ہیں تو اس وقت اس کا راز سمجھ آتا ہے کہ بڑے بڑے نیک لوگوں کی اولاد تھے، ایسے نیک لوگوں کی اولاد جو یہ دعائیں کرتے ہوئے گزر گئے کہ اللہ ان کو نیکی عطا فرمائے۔تو یہ خدا تعالیٰ کی جو تقدیر کی راہیں ہیں یہ بہت ہی لطیف اور باریک راہیں ہیں ان کو آپ سمجھیں تو زندگی کا سفر آسان ہو جائے گا اور اگر نہیں سمجھیں گے تو پھر انسان کے لئے بھٹکنے کے سوا اور کچھ باقی نہیں رہتا۔اسی مضمون میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرُّ دَعَوْا