خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 165
خطبات طاہر جلد 16 165 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء ہوئے ، گریہ وزاری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگی ، اللہ تعالیٰ سے مصیبتوں سے نجات مانگی ، نعمتوں کے لئے درخواست کی نعمتیں مل گئیں تو یہ بات بھی بھول گیا کہ یہ عمتیں ہم نے خدا سے مانگی تھیں۔وَجَعَلَ لِلهِ اَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ تو اللہ کے مقابل پر وہ پھر شریک ٹھہرانے لگ جاتا ہے تا کہ دوسروں کو بھی اس کے رستے سے ہٹائے۔پس اس معنے میں منیب نہ بنو کبھی۔اور یا درکھو کہ جب خدا کی طرف سے انابت ہو تو محض اللہ کی خاطر ، اس کی محبت کے نتیجے میں انابت الی اللہ ہو۔اگر مصیبت سے بچنے کے لئے اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے لئے انابت الی اللہ ہوگی تو تمہارے کسی کام نہیں آئے گی کیونکہ ایسی انابت کے نتیجے میں جو کچھ تم پاؤ گے اس کو دوسروں کی طرف منسوب کرو گے، اپنی چالاکیوں کی طرف منسوب کرو گے، اپنے دوستوں کی طرف منسوب کرو گے، اپنے دنیا کی ہوشیاریوں اور حادثات کی طرف منسوب کرو گے۔اتفاقاً مجھے یہ مل گیا، خدا کی طرف تمہارا دماغ نہیں جائے گا تو انابت کے مضمون کے ہر پہلو کو قرآن کریم کھول رہا ہے۔اب چونکہ وقت ختم ہو گیا ہے اس لئے انشاء اللہ اس کا جو باقی حصہ ہے وہ میں آئندہ خطبے میں بیان کروں گا۔اس وقت مجھے بعض مرحومین کی نماز جنازہ کا اعلان کرنا ہے جن میں سے بعض کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ عباد الرحمن تھے اور جہاں تک انسان کسی انسان کو دیکھ کر ایک فیصلہ کر سکتا ہے ، میرے نزدیک بعض مرحومین ان میں ایسے ہیں کہ ان کے متعلق کوئی بھی شک نہیں رہتا کہ وہ خدا کے پاک بندے تھے۔محض اس لئے نہیں کہ ان پر حسن ظن تھا، اس لئے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے لمحہ لمحہ میں ثابت کیا بلکہ بعض کی تو پیدائش سے پہلے ہی ان کے رحمان کے بندہ ہونے کی خوش خبریاں دے دی گئی تھیں اور پھر رویا اور کشوف خدا تعالیٰ ان کو ہمیشہ دکھاتا رہا، عظیم نشان ان کے ہاتھ پر ظاہر فرماتا رہا لیکن وہ عاجز ایک بالکل سادہ لوح، سادہ مزاج ، سادہ زندگی بسر کرنے والے اور اس طرح چلتے پھرتے تھے گلیوں میں جیسے ان کا وجود ہی کوئی نہیں۔ان میں سے جو سب سے نمایاں قابل ذکر ہیں وہ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مبشر ہیں جن کی چند روز پہلے وصال کی اطلاع ملی ہے۔ان کے متعلق نسبتاً زیادہ تفصیل سے کچھ کہنے کی ضرورت ہے باقی میں نام پڑھ دوں گا اور ان کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا اس وقت میں ، نہ جمعہ اس مقصد کے لئے ہوتا ہے کہ مرحومین کی زندگی کی تفاصیل بیان کی جائیں مگر بے حد نیک بندے تھے ان کے لئے