خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد 16 161 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء تو قرآن کریم نے جو مضامین بیان فرمائے ہیں ان پر آپ غور کر کے دیکھیں کس طرح رستوں کو مشکل دکھاتے ہوئے آسان کرتا چلا جاتا ہے، کوئی پہلو باقی نہیں چھوڑتا۔فرمایا أُوتيك الَّذِينَ هَديهُمُ اللهُ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ہدایت دے دی ہے۔يَهْدِی کا وعدہ نہیں ہے، یہ بھی بڑی عظیم بات ہے۔فرمایا الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ احْسَنَه وہ لوگ جو بات سنتے ہیں اور پھر سب سے اعلیٰ بات اس میں سے جو ہے اس کو اختیار کر لیتے ہیں کہ ہم نے یہ کرنا ہے اُو لَكَ الَّذِينَ هَدهُمُ اللهُ یہ وعدہ نہیں ہے کہ ان کو ہدایت دے گا۔فرمایا ان کو دے دی اللہ نے ہدایت۔وہ تو ہدایت پاچکے ہیں وَأُولَيكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبَابِ یہ ہیں عقل والے لوگ۔تو یہ جو بخشش کا مضمون اور پھر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ہے کی غلامی میں اللہ کا غلام بننے کا مضمون ہے اس کو باریک نظر سے سمجھیں تو جتنا مشکل ہے اتنا آسان بھی ساتھ ہوتا چلا جائے گا۔یہ پہلی جو آیات تھیں جو ابھی پڑھی ہیں یہ سورۃ الزمر کی اٹھارہ اور انیس آیات تھیں۔اب یہ سورۃ المومن کی آیات چودہ اور پندرہ ہیں هُوَ الَّذِى يُرِيْكُمْ أَيْتِهِ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ رِزْقًا وَمَا يَتَذَكَرُ إِلَّا مَنْ يُنِيبُ فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْكَرِهَ الْكَفِرُونَ (المومن : 14، 15 )۔انسان کی راہ میں جہاں اپنے نفس کی خواہشات اور جونفسانی امنگیں ہیں وہ حائل ہوا کرتی ہیں وہاں اس کو گمراہ کرنے کے لئے ایک حصول رزق بھی ہے۔قرآن کریم نے اس سے پہلے اس کو متوجہ فرمایا کہ آسمان سے عذاب بھی برسا کرتے ہیں اگر تم نے ان عذابوں سے بچنا ہے تو عَبدِ مُّنِیبِ بن جاؤ، عَبْدِ مُّنِيبٍ بنو گے تو اس کے عذابوں سے تمہیں رہائی نصیب ہوگی۔اب فرمایا ہے کہ عَبْدِ مُّنِيبٍ بن کر صرف ایک منفی خطرات سے رہائی نہیں ملتی بلکہ جو تمہیں رزق چاہئے وہ بھی آسمان سے اترے گا اور کسی قوم کو خوشحال بنانے کے لئے یہ ایک ایسا نسخہ ہے جو کبھی نا کام نہیں ہوسکتا۔وہ لوگ جو عبد منیب بنتے ہیں ان کے لئے آسمان سے مادی رزق بھی اترتا ہے اور آسمانی روحانی رزق بھی اترتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے اگر چہ دنیا کی ہر خواہش سے ہاتھ اٹھا لیے اور ہر خواہش کو دل سے مٹا دیا۔ایک ہی خواہش تھی کہ اللہ کی اتباع کروں اور جو وہ چاہتا ہے ویسا ہی ہوں