خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد 16 162 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء اور ذاتی تعلق، ذاتی خواہشات ساری بالکل مٹا کے رکھ دی تھیں مگر آپ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی برکت سے ان عربوں کو جنہوں نے سب سے پہلے آپ کی تائید کی ہے ان میں سے عَبْدٍ منیب پیدا ہوئے تھے ان کے رزق کے کیسے انتظام فرمائے ہیں۔اگر آپ غور کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ عربوں کو خدا تعالیٰ جو برکتیں عطا فرمارہا ہے مالی لحاظ سے بھی وہ حیرت انگیز ہیں۔یعنی تیل کی دولت کی الگ بات ہے ساری عرب دنیا میں آپ نظر ڈال کے دیکھیں اللہ تعالیٰ ان کے رزق کے کوئی نہ کوئی سامان کر ہی رہا ہے کوئی اپنے ملک میں، کوئی ملک سے باہر ان کی تجارتوں کو برکت دیتا ہے۔خدا تعالیٰ جس طرح عربوں کو نعمتیں عطا فرمارہا ہے دنیا کی بحیثیت قوم کے، دنیا میں آپ کو اور جگہ دکھائی نہیں دیں گی مگر اگر عَبْدِ منیب نہیں بنیں گے اور عبد شکور نہیں بنیں گے تو پھر جو ان کا انجام ہے وہ خود اس کے ذمہ دار ہوں گے۔میں نے اس مسئلے پر بڑا گہرا غور کیا ہے تفصیلی طور پر دیکھ کر اور ہمیشہ میں حیرت زدہ رہ جاتا ہوں کہ خدا ان کے کھانے پینے کا انتظام تو کر ہی دیتا ہے جس طرح بھی ہو کرتا ہی رہتا ہے اور کثرت کے ساتھ متوازن تقسیم دولت ہے اور اونچے اونچے پہاڑ بھی بنے ہوئے ہیں لیکن جو بالکل غریب اور بے کار اور بے چارے بالکل بے سہارا رہ جائیں وہ بہت تھوڑے ہیں مقابلہ۔دنیا کی دوسری قوموں کے مقابل پر ان میں بہت ہی معمولی تعداد ہے جو آخری درجے کی غربت پر ہوں ، ہر جگہ رزق کے سامان ہیں۔تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ عَبْدِ مُّنِيْبِ بنے کی یہ جزا بیان فرما رہا ہے يُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاءِ رِزْقًا تمہارے لئے آسمان سے رزق نازل فرمائے گا لیکن اس وقت جو رزق نازل ہوئے ہیں یہ ہم ورثہ کھا رہے ہیں اور اگر مسلمان عبد منیب بنے رہتے تو دنیا کی سب سے بڑی متمول قوم ہوتے۔تیل کی دولتیں تو اس وقت ملی ہیں جب یہ بے چارے ہر بات کھو بیٹھے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے سہارا دیا۔یہ آسمان ہی سے نازل ہونے والا رزق ہے۔مگر یہ سارا ایک ہزار سال جو مسلمانوں نے بہکتے بہکتے، بھٹکتے بھٹکتے گزارا ہے اگر اس میں یہ عبد منیب بنے رہتے تو ساری دنیا پر مسلمانوں کی سلطنت ہوتی۔تمام دنیا کے خزانے ان کے قدم چومتے اور تمام دنیا کی قومیں ان کے قدموں سے اٹھائی جاتیں۔