خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 160

خطبات طاہر جلد 16 160 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء ہے جو ان کے سپر د کیا گیا ہے۔وہ حشر برپا کر کے دکھا دیں جو قدموں سے اٹھایا جانا تھا جس کے متعلق خدا نے فرمایا کہ اے محمد متیرے قدموں سے حشر برپا ہوگا اور صبر میں روتے روتے زندگی کائی۔راتوں کو اٹھ کر گریہ وزاری کی خدا کے حضور کہ وہ حاصل نہیں ہو رہا جو میں کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ نہیں ہوسکتا۔بعض لوگ ایسے ہیں جن کی اصلاح ہو ہی نہیں سکتی ، ان کے خلاف خدا کا فیصلہ ہو چکا ہے ان کے لئے تو روتا ہے اور ان کے لئے اپنے آپ کو ہلاک کر رہا ہے۔تو ارادے بلند تھے اس لئے جو بھی حاصل ہوا ہے وہ تھوڑا دکھائی دیا ہے مگر اس مقام سے تھوڑا دکھائی دیا ہے جس مقام پر فائز تھے۔اس ادنی مقام سے جس میں ہم ہیں جب محمد رسول اللہ ﷺ کی کا میابیوں کو دیکھتے ہیں تو انسان حیرت کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ایک چھوٹی سی زندگی میں صرف ساڑھے باسٹھ سال کی زندگی پائی ہے اتنا بڑا انقلاب برپا کر دیا ہے سارے عرب پر اسلام کو مسلط کر کے دکھا دیا عرب کے کناروں سے جس طرح سیلابی لہریں اچھل اچھل کر باہر جاتی ہیں اس طرح ان کناروں سے اچھل اچھل کر اسلام باہر نکلا ہے اور دور دور تک دوسری حکومتوں اور سر زمینوں پر پھیل گیا ہے۔چین تک جا پہنچا اور حالت یہ ہے کہ راتیں رو رو کر گریہ وزاری سے بسر ہو رہی ہیں بخشیں طلب کرتے ہوئے ، اے اللہ مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی مجھے معاف فرما دے۔تو جتنے بلند ارادے کرو گے اتنا تمہارا کچھ حاصل کرنے کا امکان ہوگا جتنی چھوٹی ہمتیں رکھو گے اتنا کم امکان ہوگا۔پس احسن کے لفظ پر اس موقع پر زور دینا کہ گناہ گار آئے ہیں ابھی تو بہ کی ہے ان سے یہ توقع کہ بہترین کر کے دکھا دیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔کسی انسان نے یہ کلام بنایا ہوتا تو کبھی یہ نہ کہتا۔انسان نے یہ کلام بنایا ہوتا تو کہتا ٹھیک ہے تم تو بہ کر رہے ہو اب تھوڑی تھوڑی کرنا بلند با توں پہ ہاتھ نہ ڈالنا یہ اوپر کے لوگوں کے لئے ہیں تو اپنی توفیق کے ساتھ ساتھ رہنا۔ادھر تو بہ اور ادھر اچانک جو احسن ہے اس پر ہاتھ ڈالو، جو سب سے بلند تعلیم ہے اس کو پکڑو اس لئے کہ بلندی کے اوپر ہاتھ ڈالنا ادنی مراتب کے یقینی ہونے کے لئے ایک قطعی طور پر ضامن بات بن جاتی ہے۔جس نے ہمالیہ کی چوٹی سر کرنی ہے وہ کم سے کم Base camp تک تو پہنچے گا ہی نا لیکن جس نے ایک چھوٹی سی پہاڑی، ایک ٹیلے پر چڑھنا ہے وہی اس کی دنیا ہے وہی اس کی عظمتیں اور رفعتیں ہیں ان سے آگے وہ جاہی نہیں سکتا پھر۔بعض لوگ ٹیلہ بھی نہیں چڑھ سکتے وہ بیچ میں پھنس کے رہ جاتے ہیں۔