خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 156
خطبات طاہر جلد 16 156 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء طرح بچاتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے تم نے دیکھا نہیں جو تمہارے سامنے ہے أَفَلَمْ يَرَوْا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے آسمان اور زمین میں سے جو کچھ بھی ہے إِنْ نَّشَأْ نَخْسِفُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ تُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ ان کے لئے تو نہ زمین محفوظ ہے نہ آسمان محفوظ ہے۔یہ عجیب مضمون فرمایا گیا ہے کہ تم بڑے امن سے بظاہر چلتے پھرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ جو عذاب ہے کوئی اتفاقی واقعہ ہے۔آسمان کے نیچے، ایک محفوظ چھت کے نیچے اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ اتفاقی حادثہ ہے لیکن کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اگر ہم چاہتے تو زمین میں ان کو دھنسا دیتے زمین ان کو لے ڈوبتی اور آسمان سے جوٹکڑے برستے ہیں یعنی اجرام فلکی وہ ان کا کچھ بھی نہ چھوڑتے۔ان کی تباہی کے لئے یہ دونوں چیزیں کافی تھیں۔اب نہیں دیکھا سے کیا مراد ہے، ان لوگوں نے نہیں دیکھا۔قرآن کریم کی دوسری آیات سے پتا چلتا ہے کہ اس مضمون میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زمین میں پھر وہ غور کرو تو تمہیں یہ حقیقتیں سمجھ آجائیں گی۔دنیا میں جو بڑی بڑی حیوانی یا انسانی نسلیں تباہ و برباد ہوئی ہیں ان کے دو ہی طریقے تھے جو ہمیں قدرت میں ملتے ہیں یا ایسے عظیم زلزلے آئے ہیں، ایسے ہیبت ناک زلزلے آئے ہیں کہ وہ لوگ زمین میں دھنس گئے اور بڑی بڑی قومیں ہیں جن کے اب سراغ مل رہے ہیں ان کا نشان بھی نہیں ملا۔زمین یوں پھٹی ہے اور ان کو لے ڈوبی ہے اپنے اندر، پھر مل گئی اور جانور بھی بکثرت اسی طرح زمین کا لقمہ بن گئے یعنی زمین پھٹتی رہی اور وہ جانوران میں ڈوبتے اور غرق ہوتے رہے اور پھر ان پر زمین پھر مل گئی اور یا آسمان سے سے Meteors کی بارشیں ہوئی ہیں اور بعض دفعہ اتنی زبر دست ہوئی ہیں کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا جو ڈائنا سورس کی نسل ہے یہ آسمانی بارش کے نتیجے میں برباد ہوئی ہے یعنی سمندر میں اتنا بڑا Meteor یعنی آسمان کا ایک ٹکڑا گرا ہے، اجرام فلکی میں سے ایک بڑا ٹکڑا گرا ہے کہ اس نے مدتوں سورج سے زمین کا واسطہ کاٹ دیا۔اتنی بڑی دھند اٹھی ہے اتنے بڑے بادل بنے ہیں کہ جو ساری زمین پر چھا گئے اور ان جانوروں کے لئے نہ سبزی کھانے کے لئے رہی نہ کوئی اور غذا اور یہ ساری ڈائنا سورس کی نسل چند ہزار سال کے اندراند رفتا ہوگئی یالا کھ سال کے اندر فنا ہوگئی لیکن جو کائنات کا عرصہ ہے اس میں چند ہزار یا چندلا کھ سال ایک بہت ہی معمولی عرصہ ہے مگر یہ عذاب آسمان سے اتر اتھا۔تو دو ہی طریق ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم دیکھو تو سہی