خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 157

خطبات طاہر جلد 16 157 خطبہ جمعہ 28 فروری 1997ء آسمان سے بھی ہم جب فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی بارش برساتے ہیں کہ نیچے جس زندگی کو فنا کرنا مقصود ہو اس کا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتے اور زمینیں بھی پھٹتی ہیں۔اب دیکھو کتنے بڑے بڑے جنگلات اور کتنی بڑی بڑی یہ جانوروں کی نسلیں زمینوں میں دفن پڑی ہوئی ہیں، یہ ثبوت ہے جو سامنے ہے۔اس کے بعد فرمایا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْب اس میں نشان ہے ایک بہت بڑا اہر اس عبد کے لئے جو اللہ کی طرف جھکنے والا ہو کہ نجات ہے تو خدا سے ہے اور منیب ہوئے بغیر تم عبد بنتے نہیں ہو۔اس لئے اللہ کے بندے بنو گے تو اللہ کی کائنات سے ہر پہلو میں امن میں آجاؤ گے نہ زمین تمہیں کھا سکے گی نہ آسمان نگل سکے گا۔تو اگر تم نے باقی رہنا ہے اور دنیا میں بھی اگر باقی رہنا ہے تو یہی ایک طریق ہے، آخرت کی بات تو بعد میں آئے گی۔دنیا میں ان تاریخی حقائق کی طرف قرآن کریم اشاره فرما کر ایک قطعی یقینی دلیل پیش کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عبد منیب بچائے جائیں گے تو یہ اس کا ایک نظام ہے جس پر غور کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔اسی تعلق میں قرآن کریم فرماتا ہے وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَاَنَا بُوا إِلَى اللهِ لَهُمُ الْبُشْرَى فَبَشِّرْ عِبَادِ (الزمر:18) کہ خدا کے بندہ بننا چاہتے ہو تو دو بندے نہیں بن سکتے بیک وقت۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ تم طاغوت کے بھی بندے ہو اور اللہ کے بھی بندے رہو۔شیطان کے بھی بندے ہو اور دنیا میں جو سرکش لوگ ہیں ان کے پیچھے چل رہے ہو اور ساتھ ہی اللہ کے بھی بندے بن جاؤ۔تو ایک بندگی سے تو بہ کرنا بھی ضروری ہے اور وہ طاغوت کی بندگی ہے۔فرمایا وَ الَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ اَنْ يَّعْبُدُو ھا وہ لوگ جو ہر سرکش سے اجتناب کرتے ہیں کنارہ کشی کرتے ہیں اور اس وجہ سے اَنْ تَعْبُدُو ھا کہ کہیں اس کی عبادت ہی نہ کرنے لگیں اور یہ بھی ایک بڑا ہی عظیم فطرت کا ایک راز ہے جو خدا تعالیٰ اس میں کھول رہا ہے۔جو جابر لوگ ہوں جو باغیانہ روح رکھتے ہوں اور بغاوت کی طرف آمادہ کرنے والے ہوں اگر کوئی انسان ان کے قرب میں رہے گا تو ان کی عبادت کئے بغیر رہ نہیں سکتا یعنی کلینتہ ان کے حضور سجدہ ریز ہوئے بغیر ان کا قرب نصیب ہو ہی نہیں سکتا۔پس جابر لوگ اور بدمعاش لوگ اور ان کے ساتھ جولوگ پھرتے ہیں ان کا یہی تعلق ہوتا ہے جو سب سے زیادہ جابر اور بغاوت کی تعلیم دینے والا ہے اپنے متعلق بغاوت کا ایک ذرہ بھی برداشت نہیں کر سکتا اور جتنی بھی کہانیاں یا واقعات مافیا کے